مسجد اقصیٰ کا دفاع اور فلسطین کے مسلمانوں کی ہر قسم کی مدد دینی اخلاقی فرض ہے –
آسمانی تعلیمات کے مطابق امت مسلمہ کے تمام افراد آپس میں بھائی بھائی اور ہر قسم کے دکھ درد میں ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے کسی بھی حصے میں اگر تکلیف ہو تو اس کا درد پورے بدن میں محسوس ہونا فطری تقاضا ہے ، اسی دینی اخوت، انسانی ہمدردی اور فطری تقاضے کے تحت اس وقت پوری امت مسلمہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہے ، اس موقع پر رجوع الی اللہ ، تو بہ واستغفار اور اعمال صالحہ کی مزید ضرورت ہے ، عمومی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ائمہ مساجد سے گزارش ہے کہ وہ قنوت نازلہ کا اہتمام بھی کریں۔ امت مسلمہ کا دینی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کا ہر ممکن تعاون کریں ، ان کی نصرت و حمایت کے لیے
امت کے تمام طبقے اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق ہر ہر سطح پر بھر پور کردار ادا کریں، اپنے ملکی قانون اور دستور کے دیے گئے حقوق کے تحت اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی وسعت و قدرت کے تحت اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی دادرسی کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائیں اور مسلمان حکمرانوں پر شرعا و اخلاقا لازم ہے کہ بیت المقدس کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت و حمایت کے لیے میدانِ عمل میں آئیں، اور ان کے تحفظ ، دفاع اور بحالی کے لیے اپنی دفاعی طاقت ، انسانی حقوق اور سفارتی اثر در سوخ کا بھر پور استعمال کریں۔
اسلامی دنیا کے تمام دینی، سیاسی اور صحافتی طبقوں پر لازم ہے کہ وہ متحد ہو کر فلسطینی مسلمانوں کے لیے ایک جان اور ایک آواز بنیں، اور ہر ہر سطح پر فلسطینی مسلمانوں کے تحفظ اور دفاع کے فریضے کا شعور بیدار کریں، اور تمام مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ممکنہ حد تک قابل اعتماد ذرائع سے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ بھر پور مالی تعاون کریں۔
ناصر ہو!
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں اور تمام مظلوم مسلمانوں کی مدد و نصرت فرمائے، اور اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ہو.
سید سلیمان یوسف بنوری