تازہ ترین خبریں

غزہ میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز میں رکاوٹ: قابض اسرائیل کی طرف سے اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کی اور شہریوں کے رابطہ عامہ کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش

اس مضمون کا اشتراک کریں:

غزہ میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز میں رکاوٹ: قابض اسرائیل کی طرف سے اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کی  اور شہریوں کے رابطہ عامہ کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش 

 

غزہ کی پٹی کے مکین اس وقت مواصلات اور انٹرنیٹ خدمات کی مکمل تعطل کے شکار ہیں. انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ تعطل اسرائیل کی وجہ سے ہوا ہے  اسرائیلی قابض افواج کا مقصد غزہ پٹی میں ہونے والے جنگی جرائم کو چھپانا اور آپریشن طوفان الاقصیٰ کے فریم ورک کے اندر بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے دوران عام آبادی  تک انسانی امداد پہنچانے سے روکنے کی کوشش اور اس کے لیے اقتصادی اور سیاسی پابندیاں عائد کرنا ہے۔

 

 

 

غزہ کی پٹی میں مواصلاتی اور انٹرنیٹ خدمات زمینی توسیعی کارروائی سے قبل مکمل طور پر منقطع کر دی گئی تھیں، کیونکہ قابض افواج نے جمعہ 26 اکتوبر 2023 کی شام کو شدید اور وحشیانہ بمباری کی جس میں مواصلاتی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، اور بد نیتی کے ساتھ،  حماس تحریک کے دفاتر کی موجودگی کے بہانے اسپتالوں اور آس پاس کے علاقوں پر بمباری کی گئی ،  عالمی برادری نے قابض افواج کی جانب سے بمباری کو بلا جواز قرار دیا اسرائیل نے اپنی باری کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک شاطر اقدام کے طور پر ہسپتالوں

 پر بمباری کی 

 

بمباری کی شدت کی وجہ سے غزہ کی پٹی کی باقی تمام تنصیبات بھی پوری طرح تباہ ہوگئیں وہ سڑکیں بھی تباہ ہوگئیں جو غزہ کو باقی محلوں اور شہروں سے ملاتی ہیں، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ مغربی کنارے میں موبائل نیٹ ورک آپریٹر اوریدو فلسطین نے بھی جمعہ کی شام تک غزہ کی پٹی میں موبائل فون سروسز کی مکمل بندش کا اعلان کیا۔

 

 

 

فلسطینی وفا نیوز ایجنسی کے مطابق، اس تناظر میں، متعدد ٹیلی ویژن چینلز نے رپورٹ کیا کہ وہ تصاویر نشر کرنے اور اپنے نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے سیٹلائٹ کے استعمال پر انحصار کرتے ہیں۔

 

مزید برآں، فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے اس صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا غزہ کی پٹی کے آپریٹنگ روم اور وہاں کام کرنے والے عملے کے ارکان سے “مکمل طور پر” رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس سے ایمبولینس خدمات بہت متاثر ہوتی ہیں اور ان کی آمد میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ 

 

ایک اندازے کے مطابق یہ رکاوٹیں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں مبینہ جنگی جرائم کو چھپانے اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی کوششوںکی ایک کڑی ہے، جو شہریوں کا گلا گھونٹتی ہیں اور بڑھتی ہوئی فوجی بمباری کی کارروائیوں کے دوران انسانی امداد کی  تمام راستوں کو روکتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار