فلسطینیوں کی بے دخلی ایک نیا ’نکبہ‘ ہوگا، اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا
اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا حملہ فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کا باعث بن سکتا ہے اور یہ ایک اور ’نکبہ‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد زمینی حملے سے قبل 11 لاکھ فلسطینیوں کو شمالی غزہ سے نکلنے کا کہا ہے۔
حماس کے حملے میں 13 سو زیادہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔
بجلی کی سپلائی بند کرنے کے بعد غزہ تاریکی میں ڈوب گیا
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی فرانسسکا البنیز نے کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ایک اور ’نکبہ‘ ہو گی۔ نکبہ کا مطلب ’تباہی‘ ہے۔
یہ اصطلاح پہلی مرتبہ اس وقت استعمال ہوئی جب 1948 میں ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا۔
فرانسسکا البنیز نے کہا کہ ’اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ پھر سے نکبہ اور 1967 کا نکسہ ہو سکتا ہے۔ اسے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو اقدامات لینے چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پہلے ہی جنگ کی آڑ میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کر چکا ہے۔
فرانسسکا البنیز نے کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی حدود سے آگے بڑھ گئی ہیں۔ اس سے پہلے کہ المناک تاریخ دہرائی جائے، عالمی برادری برادری کو بین الاقوامی قانون کی ان سنگین خلاف ورزیوں کو اب روکنا چاہیے۔‘
’بروقت اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں امن، برابری اور آزادی کے ساتھ رہنے کے مستحق ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو مظالم اور جرائم سے روکے اور ان کی حفاظت کرے۔‘
‘
اسرائیلی حکام نے غزہ کا ’مکمل محاصرے‘ کرنےکے بعد پانی، بجلی، خوراک اور ایندھن کی سپلائی منقطع کر دی ہے۔
سنیچر کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائی کا ’اگلہ مرحلہ‘ آنے والا ہے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کی ڈائریکٹر جولیٹ توما نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں سے قبل ہی 10 لاکھ سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے تھے۔