تازہ ترین خبریں

امریکی اداکارہ سارا بوکر کے قبول اسلام کی روح پرور داستان

اس مضمون کا اشتراک کریں:

میں ایک امریکی خاتون ہوں، جو امریکہ کے قلب نیو یارک میں پیدا ہوئی۔ میری نوجوانی ایک امریکی لڑکی ہی کی طرح گذری۔ میرا ایک ہی شوق تھا: امریکہ کے عظیم شہر کی گلیمر بھری زندگی میں جاذبیت اور دلکشی کی دوڑ میں میں بھی حصہ لوں ۔ پھر میں فلوریڈا کے شہر میامی کے ایک ساحلی مقام پر رہنے گی۔ جو علاقہ گلیمرس زندگی“ چاہنے والوں کی آخری خواہش ہوتا ہے۔ جو شراب و شباب کی سرمستیوں کی عروج گاہ ہے۔ میری زندگی وہاں ویسی ہی تھی جیسی ایک عام مغربی لڑکی کی ایسے مقامات پر اور ان مواقع کو پا کر ہوتی ہے جو مجھے حاصل تھے۔ میری ساری توجہ اپنے سراپے اور اس پر تھی کہ میں کیسے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر اور دلکش بن جاؤں اور کس طرح میری ہر ادا محور کن اور دل رہا ہو جائے۔ میری نظر میں میری اہمیت اور مقام و مرتبہ کا پیمانہ ہی تھا کہ دوسروں کی کس قدر توجہ مجھے ملتی ہے۔
میں نے وہاں مجنو نانہ محنت کی ، اور میں ایک ماڈل اور جسمانی ورزش کی ٹرینر بن گئی۔ پھر میں نے ساحلی مقام پر ایک ایسا فلیٹ خرید لیا جس کی کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی تھیں۔ میں پابندی سے ساحل پر (پورے مغربی انداز میں ) تفریح کرنے جانے والی لڑکی بن گئی۔ اب میری زندگی مغربی معیار سے وہ تھی جس کے خواب دکھائے اور
دیکھے جاتے ہیں۔ مدت گذری، پھر سال گذرنے لگے، اور میرے اندر اطمینان وسکون بجائے بڑھنے کے کم ہوتے گئے۔ میری نسوانی کشش جس قدر بڑھتی جاتی اور جتنا میں ( بظاہر
کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی میرے اندرونی خلا اور بے اعتمادی میں بھی اس قدر اضافہ ہوتا جا تا۔ میں شدید قسم کی ذلت اور حقارت میں اپنے آپ کو ڈوبا ہوا محسوں کرتی ، میں فیشن کی غلام بن گئی تھی، اور میرا مصرف بس یہ تھا کہ دوسروں کی آنکھوں اور دلوں کو خوش کروں ۔ میرا معیار زندگی جتنا اونچا ہوتا ، میرا اعتماد اتناہی نیچا ہو جاتا۔ میں نے ان حقائق سے منہ چرانا چاہامگر وہ فرار کے ہر موڑ پر مجھ کومنہ چڑانے کے لیے موجود ہوتے۔ آخر میں اپنے آپ سے اوب گئی ، میں نے نشہ کی پناہ لی کلبوں اور پارٹیوں میں جا کر دل بہلا نا چاہا، مگر سب بے سود۔ میں نے روحانی مراقبوں سے اپنی بے سکونی کا علاج کرنا چاہا، جب یہ تد بیر نا کام ہوگئی تو مذہب بدلے، ایکٹوازم کا سہارا لیا، یعنی فلاحی اور اجتماعی تحریکوں میں لگی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق میری ترقیوں میں جو اضافہ ہور ہا تھا، اور میرا لائف اسٹائل جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا میری اندرونی ہے
اعتمادی کی آگ مجھے جلاتی جا رہی تھی۔
اسی دوران نائن الیون ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کے بعد اسلام اور اسلامی اقدار و تہذیب کے خلاف ایک خطر ناک اور چوطرفہ حملہ ہو چکا ہے۔ اور پھر بد اور بد نام نئی صلیبی جنگ کا بھی اعلان ہوتا ہے۔ اب مجھے اسلام نامی ایک چیز کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ اب تک تو میرے ذہن میں اسلام کے نام پر صرف چند تصویروں کے نقوش تھے: تر پالوں میں لیٹی عورت، بیویوں کو پیٹتے مرد، گھروں کے پچھلے حصے میں زنان
خانے ، اور دہشت گردی کی دنیا۔ میں ایک سماجی کارکن تھی جو عورتوں کی آزادی کی علم بردار اور دنیا میں لوگوں کی بہتر زندگی کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی ۔ اپنے اس کام کے سلسلے میں میری ملاقات ایک
سینئر کارکن سے ہوئی جو اس سلسلے میں اچھا کام کر چکا تھا۔ وہ بلا کسی تفریق کے سارے انسانوں کے لیے انصاف اور بہبود کا داعی تھا۔ اس شخص سے ملاقات کے بعد مجھے احساس ہوا کہ انصاف، آزادی اور احترام، یہ آفاقی اقدار ہیں اور سارے انسانوں کو ملنے چاہئیں نہ کہ صرف بعض کو ۔ اب مجھے احساس ہوا کہ سارے انسانوں کے لئے بھلا سوچنا خلوص کے بعد ہی ممکن ہے۔ پہلے میں صرف چند کے لئے اچھا سوچتی تھی ، اب میں بلا تفریق ہر قسم کے لوگوں کے حقوق کے بارے میں سوچنے لگی۔
اچانک ایک دن میرے سامنے قرآن مقدس آیا، مغرب نے جس کی بڑی منفی تصویر بنارکھی ہے۔ پہلے تو قرآن کے اسلوب دانداز نے مجھے متوجہ کیا۔ پھر اس نے کائنات ، انسان اور زندگی کے حقائق اور عبد و معبود کے رشتے پر جو روشنی ڈالی ہے اس نے مجھے مسحور کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ قرآن نے اپنی بصیرت کا مخاطب براہ راست انسان، اور اس کی روح کو بنایا ہے۔ اور وہ کسی بچو لیے یا پادری کے بغیر انسان کو اللہ کا مخاطب بناتا
ہے۔
آخر کار وہ لمحہ آ گیا جب میں نے سچائی کو تسلیم کر لیا۔ میں جس منزل کے لیے سرگرداں تھی اور جس سکون کے لیے بے تاب تھی، مجھے یقین ہو گیا کہ وہ صرف اسلام قبول کر کے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ میری داخلی بے تابیوں اور اضطراب کا علاج صرف ایمان سے ہوسکتا ہے۔ اور میرے مسائل کا حل Activisim ( مہم جوئی ) میں نہیں عملی مسلم بننے میں ہے۔
میں نے ایک برقعہ اور سر اور گردن کو ڈھکنے والا اسکارف خرید لیا، جو ایک مسلم
عورت کا شرعی لباس ہے۔ اب میں اس اسلامی با وقار لباس کے ساتھ ان راستوں اور ان
دوکانوں اور لوگوں کے سامنے سے گذرتی جن کے سامنے کچھ دن پہلے میرا گز ربکنی، شارٹ اور شاندار مغربی لباسوں میں ہوتا تھا، سب کچھ دہی ہوتا جو پہلے ہوتا تھا، بس ایک چیز بدلی ہوئی تھی، میں اور میرا اندرونی اطمینان وسکون اور خود اعتمادی اور تحفظ کا احساس، ایسا احساس جو مجھے پہلی مرتبہ ہوا تھا، مجھے لگا کہ ساری زنجیریں ٹوٹ کر بکھر گئی ہیں ۔ میری گردن کے طوق پاش پاش ہو گئے ہیں، اور میں نے آزادی حاصل کر لی ہے۔ میں بڑی خوش تھی کہ ان آنکھوں میں اب تعجب اور دوری کے آثار تھے جو پہلے مجھ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے شکاری اپنے شکار کو اور باز نھی منی چڑیا کو حجاب نے میرے کندھوں کے ایک بڑے بوجھ کو ہلکا کر دیا، مجھے ایک خاص طرح کی غلامی اور ذلت سے نکال لیا، اب دوسروں کے دلوں کو لبھانے کے لیے میں گھنٹوں میک اپ نہیں کرتی تھی ، اب میں اس غلامی سے آزاد تھی۔
ابھی میں پردے میں صرف سر اور گردن ڈھکتی، اور عبایہ ( برقعہ ) پہنتی مگر مجھے نقاب کی طرف توجہ ہوئی ، اور وہ اس لیے کہ میں نے دیکھا کہ مغرب کی مسلم عورتوں میں نقاب کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ میں نے اپنے شوہر سے (جن سے اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نکاح کر لیا تھا) مشورہ کیا، ان کی رائے تھی کہ چہرہ ڈھانکنا یعنی نقاب افضل ہے لازمی نہیں ، البتہ حجاب یعنی چہرہ کے علاوہ جسم ڈھکنا لازمی ہے۔ ابھی تک میرا پردہ یہ تھا کہ صرف ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ میرا پورا جسم ڈھکا ہوتا، میں ایک اسکارف اور ایک ڈھیلا ڈھالا لمبا ( گاؤن ) عبایہ استعمال کرتی ۔ ڈیڑھ سال اس طرح گذرا، پھر میں نے اپنے شوہر سے کہا میں چہرہ بھی ڈھکنا چاہتی ہوں اس لیے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے اللہ کو زیادہ راضی کرنے والا عمل ہوگا۔ وہ مجھے ایک دوکان لے گئے جہاں میں نے

ایک اسدال ( ایک عربی برقعہ جو سر سے پاؤں تک ہر چیز ڈھک دیتا ہے ) خریدا، اب صرف آنکھیں کھلتی ہیں اور کچھ نہیں۔

ہدایت یابی کا میرا یہ سفر جاری تھا کہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ سیاست دانوں،

|پیٹیکین کے پادریوں، آزادی کے علم برداروں اور نام نہاد انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے حجاب و نقاب کے خلاف مہم چھیٹر دی ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ حجاب عورتوں پر ظلم کی علامت ہے، کوئی اعتراض کر رہا ہے کہ یہ اتحاد و یکجہتی (Integration) میں رکاوٹ بن رہا ہے، اور اب مصر سے کسی نے یہ کہتے ہوئے سر میں سر ملایا کہ چھپڑے پین کی نشانی ہے۔ یہ بھی کیسی منافقت اور دوغلا رو یہ ہے کہ اگر کوئی حکومت عورتوں کے لباس کے لیے کچھ ضابطے بنائے تو مغرب کہتا ہے کہ یہ انسانی آزادی کی مخالفت اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے، اور اگر عورت اپنے انتخاب سے نقاب اوڑ ھے تو آپ اس کی آزادیوں کو سلب کرتے ہیں، اس کو تعلیم اور سروس سے محروم کرتے ہیں۔ یہ ظلم صرف تیونس اور مراکش جیسی استبدادی حکومتیں ہی نہیں کر رہی ہیں بلکہ یہ فرانس، ہالینڈ اور برطانیہ میں بھی ہورہا ہے۔

اب بھی میں فیمنسٹ (عورتوں کے حقوق کی حامی ) ہوں، مگر ایک مسلم فیمینسٹ ، جو مسلم عورتوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو ادا کریں، اپنے شوہروں کو ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد کریں، اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر جمیں اور اندھیروں میں بھٹک رہی انسانیت کے لیے منارہ نور بن جائیں۔ میری آپ کو دعوت ہے کہ آپ ہر خیر کو لازم پکڑ لیں اور ہر شر سے نبرد آزما ہو جائیں حق کی آواز بلند کریں اور بدی کی مخالفت پر کمر کس لیں ، ہمارے نقاب

و حجاب کے حق کے لیے لڑیں اور اللہ کو راضی کریں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم سب پردہ کرنے والی عورتیں اپنی اُن ساری بہنوں کو حجاب کے بارے میں بتائیں جو بدقسمتی سے نہیں جانتیں کہ پردہ کیا مبارک شے ہے، ہم ان کو بتائیں کہ حجاب ہم کو کتنا عزیز ہے اور ہم کیوں نہایت فخر و محبت کے ساتھ اس کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ میں جن معزز خواتین کو جانتی ہوں کہ انہوں نے صرف حجاب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نقاب سے چہرہ بھی ڈھکا ان میں سے اکثر مغربی نومسلم خواتین ہیں، ان میں سے کچھ تو غیر شادی شدہ دوشیزائیں ہیں، اکثر کو تو نقاب کی وجہ سے مسائل بھی پیش آتے ہیں، ان کی سوسائٹی، خاندان اور گھر کے لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ آزادانہ انتخاب کے حق کو تسلیم نہ کرنے ہی کی ایک شکل ہے کہ معاشرے میں ہر طرف سے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سے عورتوں پر ننگے ہونے اور بھر کیلے پن کی حد تک دل ربائی اختیار کرنے کی اندھادھن تبلیغ کی جائے ، اور عملا ان کو خواہی نہ خواہی اس کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ میرا کہنا

|کی جائے ، اور عملا ان کو خواہی نہ خواہی اس کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ میرا کہنا ہے کہ عورتوں کو حجاب کی تہذیب کو جاننے کا بھی برابر کا موقعہ دیا جانا چاہئے ۔ تا کہ وہ اس پاک و پر سکون تہذیب کی خوبیوں کو جان سکیں ، اور ان کو وہ معلوم ہو جو مجھے معلوم ہوا ہے۔ میں کل تک عریانیت کو ہی اپنی آزادی کی علامت سمجھتی تھی، پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ وہ ایک پابجولاں آزادی تھی، جس نے مجھ کو خود اعترافی اور ذاتی اعتماد سے عاری کر دیا تھا، اور میری روح کو بے چینی کی آگ میں ڈال دیا تھا۔ مجھے اپنے فحش لباس کو اتار کر اور مغرب کی دل ربا (Glamorous ) طرز زندگی کو چھوڑ کر اپنے خالق کی معرفت و بندگی والی ایک باوقار زندگی کو اختیار کرنے سے جو مسرت و اطمینان کا احساس ہوا ہے میں اس کی کوئی مثال نہیں دے سکتی، ایسی خوشی مجھے کبھی نہیں ہوتی تھی، اس لیے چہرہ

ڈھکنے اور نقاب پر مجھے اصرار ہے۔ پردہ میرا وہ حق ہے جو میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتی ، اس کے لیے میں لڑمروں گی مگر اس کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گی۔ نقاب آج عورت کی آزادی کی ایک باعزت علامت ہے۔ جو اس کو گندی مخلوقوں کی ہوس رانیوں کا ٹائیلیٹ پیپر کی طرح کا ( Use and throw) سامان بننے سے بچاتا ہے۔ نقاب پہن کر عورت پہچانتی ہے کہ وہ کون ہے، اس کا مقصد زندگی کیا ہے، اور اس کو اپنے خالق اللہ سے کیسا رشتہ ورابطہ قائم کرنا ہے۔ جو عورتیں اسلامی حجاب کی باوقار و با حیا تہذیب کے بارے میں مغرب کے قدیم گھسے پٹے متعصبانہ تصورات کی شکار ہیں ان سے میں کہتی ہوں تمہیں پتہ نہیں کہ تم کس عظیم نعمت سے محروم ہو ۔ اور تہذیب کے نامبارک ٹھیکے داروں اور نام نہاد صلیبیوں“ سے میرا کہنا ہے تم بھی حجاب کو اختیار کرو، اسی میں تمہاری نجات ہے۔ (بشکریہ Milli Gazette)

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار