جرمنی: 2022 میں 35 فیصد تارکین وطن کو نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا
برسٹیلمین فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق مسلمان جرمنی میں خاص طور پر ان امتیازی سلوک سے متاثر ہوئے ہیں،جن کا شکار ترک وطن کرنے والے مہاجرین کو کرنا پڑتا ہے. تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے 72 فیصد کو نسل پرستانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جرمنی میں کی گئی ایک ملک گیر تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس بہت سے تارکین وطن اپنی نسل یا مذہب کی وجہ سے مختلف قسم کے امتیازی سلوک کا شکار ہوئے ہیں۔ Bertelsmann فاؤنڈیشن کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں اس کا انکشاف کیا گیا ہے کہ 2022 میں نسلی امتیاز کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود کہ اس مسئلے کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ تقریباً 35 فیصد تارکین وطن نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں نسل پرستانہ رویے اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کی اطلاع دی ہے. اس کا تعلق ان کے غیر ملکی نام، بولنے کے طریقے یا رنگ ونسل سے ہے۔ تقریباً 28% تارکین وطن نے اپنے مذہب یا عقائد کی وجہ سے امتیازی سلوک اور ناانصافی کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔ اس تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی میں مسلم کمیونٹی خاص طور پر امتیازی سلوک سے متاثر ہوئی۔ تقریباً 72 فیصد مسلمانوں نے سوال کے جواب میں میں بتایا کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں "بہت زیادہ" یا "کبھی کبھی" امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔ مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرمنی میں نسل پرستی کا مسئلہ عوامی تشویش میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ امتیازی سلوک اور نسلی عدم مساوات سے نمٹنے کے اقدامات کو بڑھتی ہوئی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ تقریباً 70% جرمن جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ "حکام کو اس صورت حال کو درست کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے" تاکہ امیگریشن نسل کے لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنایا جا سکے، اور 2008 میں یہ حمایت صرف 43% جرمنوں کی تھی۔
(اناطول ایجنسی)