تازہ ترین خبریں

قدیم محدثین کی یادگار، محقق دوران حضرت مولانا سید محمد یحییٰ ندوی کی رحلت

اس مضمون کا اشتراک کریں:

ابھی اپنے مشفق و مربی ماموں جان و خسر محترم کی رحلت کا غم تازہ ہی تھا کہ دل ناتواں کو اسی طرح کے دوسرے بڑے غم کے صدمے سے دو چار ہونا پڑا. تراویح کی نماز سے فارغ ہی ہوا تھا کہ اچانک یہ جان کاہ خبر اعصاب پر بجلی بن کر گری کہ بیگوسرائے ہی کے نہیں بلکہ سرزمین بہار کے ممتاز سپوت، ماہر اسمائے رجال، مایۂ ناز محقق اور ممتاز محدث حضرت مولانا سید محمد یحییٰ ندوی بھی ہمیں داغ مفارقت دے کر مالک حقیقی سے جاملے.
 حضرت مولانا سید محمد یحیی ندوی ، بن سید فضل کبیر سادگی وقناعت کے پیکر، اپنے انداز اطوار میں قدیم محدثین کی یادگار، ممتاز علماء ومحدثین کے فیض یافتہ، محدث کبیر علامہ حبیب الرحمن محدث اعظمی کے دست راست، علامہ مفتی عبد اللطیف رحمانی کے تلمیذ رشید، علامہ سید سلیمان ندوی سے درس گرفتہ، شمع علم پر پروانہ وار نثار ہونے کی علامت اور مایہ ناز محقق تھے. ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا ہے کہ پٹنہ میں منعقد مولانا عبد اللہ عباس ندوی سیمینار کے موقع پر بھر پور ملاقات کا موقع ملا، خوب شفقتیں لٹائیں، کہنے لگے میرے دوست مولانا شفیق ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، ایسے بھی کوئی جاتا ہے، مجھ سے عمر میں چھوٹے تھے، پہلے مجھے جانا تھا لیکن وہ سبقت لے گئے، ہر کام میں وہ پیش پیش رہتے تھے سو موت میں بھی آگے بڑھ گئے. پھر اس عاجز کو تسلی دیتے ہوئے فرمانے لگے کہ مفتی خالد! تمہیں کو ان کا سارا کام سنبھالنا ہے، انشاءاللہ! اللہ کی مدد شامل حال رہے گی.. ذرا فرصت ملتی ہے تو میں تمہیں پوری داستان بتاؤں گا بلکہ لکھواؤں گا کہ میں اور مولانا شفیق نے کس طرح مل کر بیگوسرائے اور پورے بہار میں جمعیت علماء ھند کے مشن کو مضبوط کیا ہے…. لیکن…. اب حضرت ندوی کے اچانک رحلت فرما جانے کے بعد تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ:" تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے."
 حضرت کا اختصاص علم حدیث اور علم ادب میں تھا، اپنے استاذ محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے اکثر علمی کاموں میں رفیق رہے، علامہ اعظمی کی بیش بہا تعلیقات وتحقیقات سے سنن سعید بن منصور، حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کی کتاب الزہد، اور مسند حمیدی مزین ہیں، مسند احمد کی شیخ احمد شاکرؒ کی تحقیق پر آپ کے استدراکات ہیں، نیز مصنف عبد الرزاق پر آپ کی جامع تعلیقات ہیں. ان میں سے اکثر کام میں مولانا یحییٰ ندوی کی فعال شرکت رہی ہے.خود مولانا ندوی اپنے استاذ محدث کبیر پر دل و جان سے فدا تھے.. ان کے سفر وحضر میں ساتھ رہتے ایک مرتبہ حضرت اعظمی کے ساتھ مکہ مکرمہ کے سفر میں ایک مشہور" مجاہد اسلام "   سے تفصیلی ملاقات کے احوال اس طور پر بیان فرماتے کہ آنکھیں اشکبار ہوجاتیں.
اسی طرح آپ کے ادب کے استاذ ماہر علوم عربیہ علامہ عبد العزیز میمنی سابق صدر شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے جب قدیم ترین شاعر بشار بن برد کو اپنی تحقیقات کے ساتھ شائع فرمایا تو اس کے ایڈیٹنگ کے کام میں قابلِ قدر حصہ مولانا سید یحییٰ ندوی کا بھی تھا.علامہ میمنی نے آپ کا ذکر خیر بھی کیا ہے.
تاریخ بغداد میں خطیب بغدادی رح نے جو احادیث جا بجا ذکر کی ہیں انہیں آپ نے صحابہ رض کی ترتیب پر اکٹھا کیا ہے ، مزید کشاف کی جو شرح علامہ طیبی رح کی ہے، اس کے نسخوں کو بھی آپ نے جمع کیا ہے ۔
آپ کی بین الاقوامی شہرت آپ کی قلیل واسطے والی سند حدیث سے تھی، بڑے بڑے علماء آپ کی دور افتادہ بستی "سانہہ" پہنچ کر آپ کی خدمت میں زانوئے تلمذ طے کرتے اور قلیل وسائط والی سند حدیث حاصل کرتے.. آپ کی عظمت سند حدیث کی بات جب شاہان قطر امارات تک پہنچی تو انھوں نے بھی حضرت سے تلمذ کی نسبت کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھا. شاہوں کے ساتھ کبھی گداؤں کی بھی نوازش ہوجاتی ہے. اس کے بمصداق حضرت ندوی کی عنایت ومحبت کہ حضرت نے بندہ خالد نیموی کو بھی اپنی خاص اجازت حدیث سے سرفراز فرمایا.. اس کے علاوہ نصیحتوں پر مشتمل اپنے قلم سے ایک یادگار تحریر بھی عنایت فرمائی.(انشاءاللہ جلد ہی احباب سے اشتراک کروں گا) 
حضرت کی سند حدیث اس طرح ہے
سماعا و قراۃ :عن المفتی عبد اللطیف العلیجری عن الشاہ فضل رحمان الکنج مرادآ بادی عن الشاہ اسحٰق الدھلوی عن الشاہ عبد العزیز الدھلوی
اور عمومی اور تبرکا اجازت اس طرح ہے :عن المفتی عبد اللطیف ،عن الشاہ فضل رحمان الکنج مرادآ بادی عن الشاہ عبد العزیز الدھلوی…
 اجازت دیتے ہوئے حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ شاہ فضل رحمان گنج مراد آبادی کو صرف حدیثِ مسلسل بالاولیہ اور بخاری کی چند احادیث شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے پڑھنے کا موقع ملا تھا باقی کی تکمیل حضرت شاہ اسحاق سے ہوئی.
اس کے علاوہ آپ کی ایک سند فضل اللہ الصمد فی شرح الادب المفرد کے مصنف حضرت شاہ فضل اللہ رحمانی سے بھی ہے.
1944تا 1948 آپ ندوۃ العلماء میں رہ کر وہاں کے اساطین سے کسب فیض کرتے رہے. بعدازاں علی گڈھ میں وہاں کے ممتاز اساتذہ سے استفادہ کیا. 
 آپ نے ایک رئيس دین پرور اور علماء نواز گھرانے میں آنکھیں کھولیں.اپنی صلاحیت وصالحیت کے ذریعے بہت جلد اکابر اولیاء اللہ کے منظور نظر بن گئی. علامہ گیلانی اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں حضرت شاہ لطف اللہ رحمانی کی تربیت اور دعاؤں کا بڑا حصہ آپ کو ملا.. حضرت الاستاذ مفتی ظفیر الدین مفتاحی نوراللہ مرقدہ کے نام حضرت گیلانی کے جو مکاتیب ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان اکابر کے دل میں حضرت ندوی کی کتنی محبت موجزن تھی، ایک مرتبہ آپ کے دل میں ادب کی تحصیل کے لیے مصر جانے کا خیال پیدا ہوا، اس پر علامہ گیلانی نے از راہ مزاح لکھا کہ "ادب کی تحصیل صواحبِ یوسف کے ملک میں!!
حضرت مرحوم جمعیت علماء ہند کے شیدائی تھے، نوجوانی میں آپ کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ودیگر اکابر کی ضیافت کا شرف حاصل ہوا تھا.. وہ محبت پوری زندگی آپ کے دل میں پیوست رہی، ریاستی جمعیت علماء کے نائب صدر بھی رہے. ضلع کے علماء کے آپ سرتاج تھے اور اور چھوٹوں کے لیے مشفق مہربان.. ضلع کے علماء میں حضرت علامہ محسن بن یحییٰ ترہتی ،مولانا حکیم محمد یحییٰ لکھمنیا وی، مولانا محمد ادریس نیموی  اور مولانا سید عبد الاحد قاسمی کے لیے رطب اللسان رہا کرتے تھے خاص طور پر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کے بارے میں فرماتے کہ انھوں نے بہت کام کیا ضلع میں ان کا فیض بہت عام ہوا.. ان اکابر کے بیش قیمت واقعات بیان کرتے (انشاءاللہ اس پر کسی اگلی نششت میں روشنی ڈالی جائے گی..)
اس عاجز سے بڑی محبت فرماتے تھے، جب بھی مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے تشریف لاتے تو خاص طور پر اس عاجز کو یاد فرماتے، دار الافتاء میں قدم رنجاں فرماکر گھنٹوں اپنے علمی فیوض سے مالا مال فرماتے. کہتے کہ مولانا شفیق کی نسبت اور تمہارے ادب وشوق کو دیکھ کر مجھے تم سے خاص انسیت محسوس ہوتی ہے… درس قرآن کو تسلسل سے جاری رکھنے کی. نصیحت کرتے ہوئے فرماتے کہ مجھے تفسير کے چند اسباق علامہ سید سلیمان ندوی سے پڑھنے کا شرف حاصل ہے، تمہیں بھی اجازت دیتا ہوں.
علامہ ترہتی کی سرزمین کی نشاۃ ثانیہ سے بہت خوش تھے اور بڑی حوصلہ افزائی فرماتے تھے..حوصلہ افزائی اور خورد نوازی حضرت کی فطرت ثانیہ تھی. اس کا مشاہدہ ضلع کے اکثر علماء نے خوب کیا ہے .اور کیا خوبیاں تھی جانے والے میں؟؟ اس کو بیان کرنا اس غم زدہ ماحول میں آسان نہیں کہ :سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے.
حضرت کے پاسپورٹ پر آپ کی عمر 10/01 /1931 درج ہے. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے حیات مستعار بانوے بہاریں دیکھیں اور ان میں سے زیادہ تر حصے کو قال اللہ وقال الرسول کی صدائے جاں افزاء سے معطر ومنور رکھا، انشاءاللہ علوم کتاب وسنت سے یہ شغف آپ کے لیے ذخیرہ آخرت ثابت ہو گا. آپ نے اپنے بعد تین صاحب زاد گان : جنید انظر عرف آغا، اور سوید ازھر عرف آصف، مکھیا عنو اور کئی بچیاں، پوتے، پوتیاں، ناتی، نواسیوں سے آباد بھرا پرا گھرانہ چھوڑا. 
آج جب کہ حضرت کا سایۂ ہما سر سے اٹھ گیا ہے، عجب بے کلی کا احساس ہورہا ہے..اللھم لاتحملنا مالا طاقۃ لنا بہ.
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین. اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین.
بندہ خالد نیموی قاسمی

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار