مسلم علماء کے ایک وفد نے ترکیہ کے صدر اردگان سے غزہ کے حوالے سے حسب سابق مزید باوقار اور مؤثر موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلامی اسکالرز کے ایک وفد نے غزہ کے باشندگان کی حمایت میں ہفتہ کے روز صدر اردگان کی سربراہی میں جاری ایک بڑے عوامی میلے کے موقع پر ترک صدر طیب رجب اردگان سے ملاقات کی۔
علمائے کرام کے وفد نے ترک صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے حوالے سے مزید باوقار مقام اختیار کریں جو 16 سال سے زائد عرصے سے صیہونی جارحیت اور محاصرے کا شکار ہے۔
موریطانیہ میں سکالرز ٹریننگ سینٹر کے سربراہ اور یونین کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن عالم شیخ محمد الحسن ولد الدود نے ترک صدر رجب طیب اردغان سے ترکی اور قابض اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول شہر میں ایک بڑے میلے میں خطاب کیا ، جس میں ترکی کے باشندوں اور عوام نے مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تھا، اس بات پر زور دیا تھا کہ اتحاد میں طاقت ہے اور تقسیم میں کمزوری اور گمراہی ہے۔
صدر رجب طیب نے اپنی تقریر کے دوران مزاحمت کی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حماس قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک ہے، حماس دہشت گرد تحریک نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ اسے سمجھتے یا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، مغرب اس سلسلے میں منافقت کا شکار اور دوغلی پالیسی کا حامل ہے ، اردغان نے کہا کہ ہم مغربی ممالک کو خبردار کرتے ہیں جو صیہونی قابضین کی حمایت کرتے ہیں، ان کے خلاف دوہرا معیار اختیار کیے ہوئے ہیں. خاص طور پر اسرائیل کا سپورٹ کرتے ہیں اور غزہ اور فلسطین میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ۔