تازہ ترین خبریں

رفح سمیت غزہ کے کئی مقامات پر اسرائیل کا وحشیانہ حملہ، 164 فلسطینی شہید.

اس مضمون کا اشتراک کریں:

رفح سمیت غزہ کے کئی مقامات پر اسرائیل کا وحشیانہ حملہ، 164 فلسطینی شہید. 

 

رفح کے گنجان آبادی والے علاقہ میں اسرائیل کے فضائی حملے، بچوں سمیت 67 جاں بحق

صیہونی فوج نے غزہ میں جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 164 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

رفح، غزہ کی پٹی: اسرائیلی فورسز نے پیر کی صبح غزہ کی پٹی کے ایک گنجان آباد قصبے میں ایک بھاری حفاظتی اپارٹمنٹ پر دھاوا بولتے ہوئے دو یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا۔ اسرائیلی فوج کے اس فضائی آپریشن میں خواتین اور بچوں سمیت 60 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوگئے۔

 

فلسطینی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے رشتہ داروں کو سوموار، 12 فروری، 2024 کو رفح میں ایک ہسپتال کے مردہ خانے میں سوگ منا رہے ہیں. 

اسرائیلی نے رفح پر آدھی رات کو فضائی حملے کیے۔ وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 67 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

 

القدرہ نے کہا کہ امدادی کارکن اب بھی ملبے میں لاشیں تلاش کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک صحافی نے رفح کے ابو یوسف النجار اسپتال میں کم از کم 50 لاشیں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

 

12 فروری، 2024 کو پیر کو رفح میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی۔ 

رفح میں رہنے والے ایک فلسطینی محمد زغروب نے بتایا کہ اس نے ایک کالی جیپ کو شہر میں تیزی سے گزرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد جھڑپیں اور شدید فضائی حملے شروع ہوئے۔

 

رفح کے کویتی ہسپتال سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں مردہ یا زخمی بچوں کو دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایک نوجوان کو ایک شیر خوار بچے کی لاش اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو ان کے بقول حملوں میں مارا گیا تھا۔

 

فلسطینی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے رشتہ داروں کو سوموار، 12 فروری، 2024 کو رفح میں ایک ہسپتال کے مردہ خانے میں سوگ منا رہے ہیں۔ 

تقریباً 1.4 ملین لوگوں سے بھرے شہر رفح میں رات بھر بمباری نے تباہی مچا دی۔ یہاں وہ لوگ مقیم ہیں جو جنگ سے بچنے کے لیے اپنے گھر چھوڑ کر آئے ہیں۔

 

 

غزہ میں جاری اسرائیل کی جارحیت میں ابھی تک 28,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، 80 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ اس جنگ نے ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے پیر کو بتایا کہ اس جنگ میں 12,300 سے زائد فلسطینی بچے اور نوجوان جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 8400 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والوں میں تقریباً 43 فیصد بچے اور نوجوان ہیں، اور خواتین اور نابالغ تین چوتھائی ہیں۔

 

اسرائیل نے حماس کے تقریباً 10,000 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ابھی تک وہ اس ضمن میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کر پایا ہیں۔

 

اسرائیل نے رفح کو غزہ میں حماس کا آخری گڑھ قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اس کی زمینی کارروائی جلد ہی غزہ کی پٹی کے جنوبی کنارے پر واقع قصبے کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

 

اسرائیل کا کہنا ہے کہ نومبر میں جنگ بندی کے دوران درجنوں کی رہائی کے بعد تقریباً 100 یرغمالی حماس کی قید میں ہیں۔ حماس کے پاس تقریباً 30 دیگر افراد کی باقیات بھی ہیں جو یا تو 7 اکتوبر کو مارے گئے تھے یا اسیری کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق اسرائیلی فورسز کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 28 ہزار 340 ہوگئی۔

یاد رہے کہ غزہ کے 23 لاکھ شہریوں میں سے نصف سے زائد رفح میں پناہ لیے ہوئے ہوئے ہیں اور تقریباً روز ہی اسرائیل یہاں بمباری کر رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ خان یونس کے سب سے بڑے ناصر اسپتال پر اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کی جس میں ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اس اسپتال میں 300 طبی عملہ، 450 مریض اور 10 ہزار بے گھر افراد پناہ لے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری وحشیانہ بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 28 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 60 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

یو این آئی

حماس نے ایک بیان میں واضح کیا کہ اسرائیل کے حملوں میں 3 یرغمالی بھی ہلاک ہوگئے۔

 

ادھر یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے چیف جوزیف بوریل نے امریکا اور دیگر ممالک سے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت فوری روکنے کا مطالبہ کردیا۔

 

 

نیدرلینڈ کی عدالت نے بھی حکومت کو اسرائیل کو جنگی طیارے ایف-35 کے پرزے فروخت کرنے سے روکنے کا حکم دے دیا۔

 

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار