غزہ : جنگ بندی کے مذاکرات کے دوران اسرائیل کا رفح کراسنگ پر ظالمانہ قبضہ.
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے غزہ اور مصر کے درمیان فلسطینی سائیڈ پر رفع کراسنگ پر قبضہ (آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا) کر لیا ہے۔
گذشتہ برس اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے رفع، غزہ میں امداد پہنچانے اور جنگ سے جان بچا کر نکلنے والوں کے لیے واحد راستہ بچا تھا۔
رات بھر شدید حملوں اور گولہ باری کے بعد ٹینکوں پر مشتمل اسرائیلی بریگیڈ رفع کراسنگ میں داخل ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے تنبیہ کی ہے کہ رفع کراسنگ کی بندش کا مطلب ہے غزہ کے لیے دو اہم امدادی راستے بند ہو چکے ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ پر قبضہ کرنے کا مقصد علاقائی ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی کے نئے معاہدے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔
پیر کی شام حماس نے مصر اور قطر کی ثالثی میں کیے جانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط پر اتفاق کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی بنا پر لڑائی میں ایک ہفتے کا وقفہ اور غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی شامل ہے تاہم اسرائیل نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اُن کے ’(جنگ بندی سے متعلق) اہم اور بنیادی مطالبات سے مطابقت نہیں رکھتا‘ اور مزید یہ کہ اسرائیل اب ایک ’قابل قبول معاہدے‘ کے لیے مصر میں اپنا ایک وفد بھیج رہا ہے۔
حماس کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط رضامندی کا اعلان سامنے آنے کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے رفح کے مشرقی حصے میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ ترین حملوں سے قبل انھوں نے فلسطینوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کیں جس کے بعد ہزاروں لوگ رفح کے شمال میں واقعے اس حصے کی جانب منتقل ہو گئے ہیں جسے اسرائیلی فوج نے ’ہیومینیٹیرین ایریا‘ (انسانی ہمدردی اور مدد کا علاقہ) قرار دے رکھا ہے۔
اسرائیل کے مطابق رفح میں ہونے والا یہ فوجی آپریشن ٹارگٹڈ (محدود) ہے۔ اسرائیل کے تازہ حملے کے جواب میں فلسطینی اسلامی جہاد نے حماس کے ساتھ مل کر جنوبی اسرائیل پر راکٹ فائر داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مشرقی رفح پر تازہ ترین حملوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں خاصی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں کو مصر کی سرحد کے بالکل قریبی راستے پر رفح کی جانب بڑھتے دیکھا گیا ہے تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اُن کے مطابق ’میں نہیں سمجھتا کہ یہ معاملہ اس سے قبل کبھی اتنا حساس تھا۔مصر کے ساتھ سرحدی دروازے کے فلسطینی حصّے کا کنٹرول مکمل طور پر سنبھال لیا گیا اور حملے میں 20 فلسطینی قتل کر دیئے گئے ہیں: اسرائیلی فوج
اسرائیل نے رفح پر بمباری شروع کر دی، ابتدائی حملوں میں 20 فلسطینی قتل کر دیئے گئے
اسرائیلی فوج نے غزّہ کے علاقے رفح کے لئے برّی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی حملوں میں 20 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
فوج نے جاری کردہ بیان میں رفح کے مصر کے ساتھ سرحدی دروازے کے غزّہ کی طرف کے حصّے پر قبضے کا اعلان کیا ہے۔
بیان کے مطابق مصر سے تقریباً 3،5 کلو میٹر مسافت پر واقع سرحدی دروازے کے فلسطینی حصّے کا کنٹرول مکمل طور پر سنبھال لیا گیا اور حملے میں 20 فلسطینیوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل جنگی کابینہ نے کل شام حماس کے، قطر اور مصر کی پیش کردہ، فائر بندی تجاویز قبول کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود رفح پر حملے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسرائیلی جنگی طیاروں اور توپوں نے رات گئے رفح کے مشرقی حصّے پر بھاری بمباری کی۔ علاوہ ازیں رفح کے مصر کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بھی فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ آج صبح کے وقت اسرائیل نے برّی آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کل صبح جاری کردہ بیان میں غزّہ کے بے سروسامان فلسطینی پناہ گزینوں کو رفح کے مشرقی محلّے خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد متعدد فلسطینیوں نے رفح سے نکلنا شروع کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ غزّہ کی پٹّی پر 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم از کم 14 ہزار 944 بچوں اور 9 ہزار 849 عورتوں سمیت 34 ہزار 735 فلسطینی قتل کئے جا چُکے ہیں۔
اس تعداد میں وہ شہداء شامل نہیں ہیں جن کی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی یا راستوں میں بکھری پڑی ہیں اور اسرائیلی جبر کی وجہ سے اکٹھی نہیں کی جا رہیں۔
اسرائیل اسکولوں اور ہسپتالوں کو ہدف بنا کر سِول انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کر رہا ہے۔‘