“انٹرنیشنل ہفتۂ القدس”
کے انعقاد کے موقع پر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی اپیل
تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں، اور درود و
سلام ہو ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر، اور قیامت تک احسان کے
ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز، علماء، ماہرینِ تعلیم
اور اہلِ میڈیا کی ایک مبارک جماعت کی شرکت کے ساتھ، اور عالمِ اسلامی کے مختلف
ممالک میں موجود اداروں، تنظیموں اور شخصیات کے وسیع تعاون سے، اس سال ’’انٹرنیشنل
القدس ہفتہ ‘‘ کے انعقاد کا اعلان کرتا ہے، جو مندرجہ ذیل عنوان کے تحت منعقد ہو
رہا ہے:
’’القدس اور غزہ…امید کی صبح قریب ہے ‘‘
یہ اعلان اس مسلسل جدوجہد کا تسلسل ہے جس پر اتحاد اپنے
قیام کے روز اول سے کاربند ہے، کہ اس نے القدس اور فلسطین کے مسئلے کو اپنی اولین
ترجیحات اور مرکزی قضیے کی حیثیت دی ہے، اور اس کی نصرت کو شرعی و اخلاقی ذمہ داری
سمجھتے ہوئے، اسے امت کے شعور اور ضمیر میں زندہ رکھنے کے لیے قولاً، فکرا اور
عملاً کام کیا ہے۔
عالمی ہفتۂ القدس
ہر سال ماہِ رجب کے آخری ہفتے میں منایا جاتا ہے، جو واقعۂ اسراء و معراج
اور بیت المقدس کی صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھوں آزادی کی یادگار کے ساتھ مربوط ہے۔
اس سال اس کی سرگرمیوں کا آغاز منگل 13 جنوری 2026 کو ہوگا اور یہ پیر 19 جنوری
2026 تک جاری رہیں گی۔ یہ ہفتہ ایک جامع سالانہ پلیٹ فارم ہوگا، جو محض علامتی یاد
منانے سے آگے بڑھ کر عملی جدوجہد، بیداری، اور منظم کوششوں کا موسم بنے گا، اور
علماء، مفکرین، ماہرینِ تعلیم، اہلِ میڈیا، معاشرے کے تمام طبقات، سول سوسائٹی کی
تنظیموں اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے مابین صفوں کی وحدت اور کوششوں کے باہمی
تکامل کی عکاسی کرے گا۔
اس سال ہفتۂ القدس عالمی کا آغاز ایک غیر معمولی تاریخی
تناظر میں ہو رہا ہے، جو قابلِ فخر غزۂ
میں ظاہری جنگ بندی کے ساتھ مربوط ہے، جب دنیا پر ہمارے فلسطینی عوام کے
خلاف کی جانے والی وحشیانہ نسل کشی اور منظم تباہی کی حقیقت آشکار ہو چکی ہے، اور
خطہ بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔
یہ موقع فتحِ صلاح الدین کی یاد کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے،
تاکہ یہ حقیقت واضح ہو کہ القدس کبھی بھی ایک ثانوی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ وہ ہمیشہ
امت کی مرکزی ذمہ داری رہا ہے اور رہے گا، اور القدس، غزہ اور مغربی کنارے پر، نیز
رسول اللہ ﷺ کے جائے معراج پر کیا جانے والا ہر حملہ دراصل امت کے وجود ، اس کے
ضمیر اور اس کے پیغام پر حملہ ہے۔
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اس سال
انٹرنیشنل ہفتۂ القدس کے آغاز کا اعلان
کرتے ہوئے، غزہ کی ثابت قدمی اور صہیونی منصوبے کی حقیقت کے بے نقاب ہونے کے بعد،
درج ذیل موقف اور ذمہ داریوں پر زور دیتا ہے:
اوّل:
اتحاد قابلِ فخر غزۂ
کے بہادر مجاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، جنہوں نے ناپاک ترین اور
اخلاق سے عاری فوج کے جدید ترین ہتھیاروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور امت کی عزت و
وقار کے دفاع میں ثابت قدم رہے۔ اسی طرح غزہ کے صابر عوام، پاکیزہ خون سے سرفراز
ہونے والے شہداء، صبر کرنے والے زخمیوں، اور ثابت قدم اسیران کو سلام پیش کرتا ہے،
جن سب نے مل کر عزت کا عنوان اور کرامت کا معیار قائم کیا۔
دوم:
اتحاد اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہفتۂ القدس عالمی افراد،
اداروں اور ان حکومتوں کی سطح پر ترجیحات کی ازسرِنو ترتیب کا ایک اسٹریٹجک موقع
ہے جو اپنی عوامی خواہشات کی ترجمان ہیں۔ القدس کو اولین مقام ملنا چاہیے، اور غزہ
وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اور یہ ہفتہ محض ایک عارضی موقع نہیں بلکہ مسلسل
عمل کی شروعات کا نقطۂ آغاز ہونا چاہیے۔
سوم:
اتحاد تمام اداروں، تنظیموں اور مؤثر حلقوں سے اپیل
کرتا ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں ہفتۂ القدس عالمی کے ساتھ عملی طور پر
وابستہ ہوں، سرگرمیوں، پروگراموں اور تقریبات کا اہتمام کریں، سرکاری بیانات جاری
کریں، اور ہفتے کی رہنمائی دستاویز سے استفادہ کریں، تاکہ سرگرمیوں میں تنوع اور
جامعیت پیدا ہو۔
چہارم:
اتحاد امت کے علماء، خطباء اور داعیانِ اسلام سے مطالبہ
کرتا ہے کہ وہ آنے والے دو جمعوں کے خطبات کو امت کی پہلی قبلہ کے تئیں ذمہ داری،
اور غزہ و مغربی کنارے کے حوالے سے امت کے فرض پر مرکوز کریں، اور اس حقیقت کی طرف
توجہ دلائیں کہ جارحیت کے بعد کا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ استقامت، عمل اور تعمیر
کا متقاضی ہے۔
پنجم:
اتحاد عالمِ اسلامی اور اس سے باہر کے ممالک میں، جمعہ
کی نمازوں کے بعد اور پورے ہفتے کے دوران، بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کے انعقاد
کی اپیل کرتا ہے، تاکہ غزہ کی نصرت، مغربی کنارے پر جارحیت کی مذمت، اور فلسطینی
قضیے کے زندہ ہونے کا عملی اظہار مسلسل عوامی دباؤ کی صورت میں سامنے آئے۔
ششم:
اتحاد علمی اور تربیتی پہلو کی اہمیت پر زور دیتا ہے، جس
کے تحت مفاہیم کی اصلاح، تطبیع کے بیانیے، نام نہاد ’’ابراہیمی مذہب‘‘، اور ہیکلِ
سلیمانؑ کے جھوٹے دعوے کا مقابلہ، نصابِ تعلیم اور ثقافتی و ابلاغی خطاب میں القدس
کی مرکزیت کا استحکام، اور ایسا شعور پیدا کرنا شامل ہے جو اس قضیے کو مٹنے اور
فراموشی سے محفوظ رکھے۔
ہفتم:
اتحاد غزہ کے عوام کے لیے منظم امدادی کوششوں کو تیز
کرنے کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ یہ مال کے ذریعے جہاد کا ایک بنیادی حصہ ہے، تاکہ
عطیہ محض وقتی نہ رہے بلکہ ایک پائیدار ادارہ جاتی عمل بنے، جو صمود اور ثابت قدمی
کا مضبوط سہارا ہو۔
ہشتم:
آخر میں اتحاد اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ خطرناک صہیونی
منصوبے کا مقابلہ صرف ایک جامع اسلامی، عربی اور انسانی منصوبے ہی کے ذریعے کیا جا
سکتا ہے۔
اسی موقع پر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز جلیل القدر
علماء، اور علمی، فکری و ابلاغی شخصیات کا دلی شکریہ اور گہرا اظہارِ امتنان پیش
کرتا ہے، جنہوں نے القدس کی پکار پر لبیک کہا اور اس کانفرنس میں شرکت فرمائی، اور
اپنی مخلصانہ موجودگی کے ذریعے علماء کے شعور، ان کے مشن، اور امت کے مرکزی قضیے
سے ان کی وفاداری کو عملی صورت میں اجاگر کیا۔
اسی طرح اتحاد، عالمِ اسلامی اور آزاد دنیا میں ذرائع
ابلاغ، امت کے علماء، کارکنان اور صحافیوں کے نمایاں اور قابلِ قدر کردار کو نہایت
سراہتا ہے، جو ہفتۂ القدس عالمی کو زندہ رکھتے ہیں، اسے محض ایک تقریب نہیں بلکہ
ایک متحرک عمل بناتے ہیں، اور تحریف، تطبیع اور فراموشی کے مقابلے میں القدس اور
غزہ کی توانا اور مستقل آواز بن کر کھڑے رہتے ہیں۔
﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ (یوسف: 21)
اور تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز
دوحہ – 24 رجب 1447ھ
مطابق: 13 جنوری 2026
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للبيان باللغة العربية،
اضغط (هنا).