تازہ ترین خبریں

اتحاد عالمی کے صدر محترم شیخ علی القره داغی نے معزز شخصیات کے ہمراہ شہر لیبراش – البانیہ میں مسجد ’’الإيمان‘‘ کا افتتاح کیا.

اس مضمون کا اشتراک کریں:

اتحاد عالمی کے صدر محترم شیخ علی القره داغی نے معزز شخصیات کے ہمراہ شہر لیبراش – البانیہ میں مسجد ’’الإيمان‘‘ کا افتتاح کیا. 

اللہ کے مبارک دنوں میں سے ایک دن، محترم شیخ علی القره داغی نے جمہوریہ البانیہ کے شہر لیبراش (Librazhd) میں مسجد ’’الإيمان‘‘ کے افتتاح کے پروگرام میں شرکت کی۔ یہ مسجد معزز شخصیت محمد بن عبد اللہ آل عبدالغنی کی کریمانہ مالی معاونت سے قطر چیریٹی کی نگرانی میں تعمیر کی گئی۔

افتتاحی تقریب میں البانیہ اور قطر کی نمایاں شخصیات کے علاوہ مذہبی اور سرکاری اداروں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ روحِ اخوتِ اسلامی اور دونوں ممالک کے انسانی تعاون کی بے مثال جھلک اس پر وقار منظر میں نمایاں تھی۔

مسجد کا افتتاح خشوع و خضوع کے ساتھ تلاوتِ قرآن اور تأثر انگیز دعا سے ہوا، جس کے بعد اپنے خطاب میں محترم شیخ علی القره داغی نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس ایمان افروز مرکز کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائی، جو ان شاء اللہ علم، عبادت اور تقویٰ کی روشن منارہ ثابت ہوگا اور البانیائی معاشرے میں رواداری و امن کی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔

 افتتاح کے موقع پر خطبہ جمعہ 

اسی مبارک دن، جمعۃ المبارک کے موقع پر، محترم شیخ علی نے شہر لیبراش میں واقع جامع الوجيه محمد بن عبد الله آل عبدالغني میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا، جو اس مسجد میں ہونے والا پہلا خطبہ تھا۔

شیخ نے خطبہ کا آغاز اللہ کی حمد و ثنا کے ساتھ کیا اور اس عظیم فضل پر اظہارِ تشکر کیا کہ اللہ نے اس مسجد کا افتتاح نصیب فرمایا۔ انہوں نے اس مسجد کو ہدایت کا چراغ اور اس پاکیزہ بستی کے اہلِ ایمان کے لیے روحانی آسرا قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے انتظامیہ، علاقہ کے لوگوں اور تعمیر میں حصہ لینے والوں کے لیے دعا بھی فرمائی۔

خطبہ میں ایمان اور نیک عمل کے موضوعات سمیت عبادت اور تعمیرِ معاشرہ کے درمیان توازن، دین اور دنیا کے فقہ (سمجھ) کے امتزاج یعنی ’’فقہ المیزان‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے مسجد کے فرد اور سماج کی تعمیر میں بنیادی کردار پر زور دیا۔

شیخ کا مسجد اور انسانیت کے پیغام پر گفتگو 

خطبہ کے ایک حصے میں محترم شیخ نے اسلام میں مسجد کی اہمیت بیان کی کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور امت کے لیے روحانی و فکری روشنی کا مرکز۔ انہوں نے واضح کیا کہ مومن انسان کے لیے زندگی میں ایک مقصد اور مشن ہونا ضروری ہے۔ وہ بے سمت اور بے مقصد زندگی نہیں گزارتا بلکہ ایک روشن پیغام اسے خیر اور اصلاح کی طرف ثابت قدم رکھتا ہے۔

شیخ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر مؤثر دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ البانیہ اور اس کے عوام کی حفاظت فرمائے، قطر اور اس کے اہلِ وطن میں برکت دے، غزہ اور امتِ مسلمہ کی مشکلات آسان فرمائے، اور اس مسجد کو ہر دور میں خیر و ہدایت کا چراغ بنائے۔

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار