تازہ ترین خبریں

روس افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

اس مضمون کا اشتراک کریں:

روس افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا
پہلا ملک بن گیا

 

افغانستان میں طالبان حکومت اگست 2021 میں
قائم ہوئی تھی اور صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے تھے.

روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے افغانستان کے
نئے سفیر کی اسناد قبول کرلی ہیں جس کے بعد روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا
پہلا ملک بن گیا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی RIA Novosti کے مطابق یہ اعلان روسی صدر کے افغانستان
کے لیے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے کیا۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے
کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی امارت افغانستان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم
کرنے کا اقدام، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعمیری دوطرفہ تعاون ک کو
مزید تقویت دے گا۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں اس عزم کا بھی
اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور منشیات کے
خلاف جنگ میں تعاون، مدد اور حمایت جاری رکھیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک
کے درمیان تجارت اور معیشت کے شعبوں سمیت خاص طور پر توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت
اور انفراسٹرکچر میں بھی بڑے مواقع موجود ہیں۔

افغان وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ
روسی سفیر دمتری ژیرنوف نے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی اور
انہیں اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایک بیان
میں کہا کہ ہم روس کے اس جرات مندانہ اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان
شاء اللہ یہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا۔

اس طرح روس دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس
نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

تاحال کوئی بھی ملک رسمی طور پر طالبان
حکومت کو تسلیم نہیں کرتا تاہم چین، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور پاکستان نے
کابل میں اپنے سفیر تعینات کیے ہیں البتہ اب تک باضابطہ تسلیم نہیں کیا ہے۔

ایسے میں روس کی حمایت اس کے لیے تقویت کا
باعث ہوگی۔

طالبان اور روس کے درمیان تعلقات کی تاریخ

روس اور طالبان کے درمیان تعلقات بتدریج
فروغ پا رہے ہیں۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ طالبان اب دہشت گردی
کے خلاف جنگ میں روس کے اتحادی ہیں۔

سنہ 2022 سے افغانستان نے گیس، تیل اور
گندم کی درآمدات روس سے شروع کیں۔ اگرچہ 2003 میں روس نے طالبان کو ایک دہشت گرد
تنظیم قرار دیا تھا، لیکن رواں سال اپریل 2025 میں یہ پابندی ختم بھی کردی تھی۔

روس کے لیے افغانستان سے تعاون ضروری ہو گیا
ہے کیونکہ اسے افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک پھیلے علیحدگی پسند عسکری گروہوں سے سنگین
سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں۔

مارچ 2024 میں، ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ
ہال پر حملے میں 149 افراد مارے گئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی
تھی۔

طالبان حکومت نے امریکا سے معاہدے میں یقین
دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملے یا پناہ دینے کے لیے
استعال نہیں ہونے دیں گے۔

یہی یقین دہانی طالبان حکومت نے روس کو بھی
کرائی ہے اور کہا تھا کہ وہ افغانستان سے داعش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

. (ایجنسیاں)

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار