تازہ ترین خبریں

اسرائیلی فضائی حملے، 500 اموات، 1645 زخمی: لبنانی وزارت صحت

اس مضمون کا اشتراک کریں:

اسرائیلی فضائی حملے، 500 اموات، 1645 زخمی: لبنانی وزارت صحت

لبنانی وزیر صحت نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک مرنے والوں میں 21 بچے اور 31 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 1246 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لبنان کے جنوبی علاقوں سمیر دیگر شہروں پر پیر کو شروع ہونے والے تازہ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں جان سے جانے والوں کی تعداد تقریباً 35 بچوں اور 58 خواتین سمیت 492 ہو گئی ہے اور لبنانی وزارت صحت سے اسے جنگ کے پہلے روز سے سرحد پار تشدد کا ’مہلک ترین‘ دن قرار دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں تقریباً 1600 مقامات کو نشانہ بنا کر حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کی ایک ’بڑی تعداد‘ کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں بیروت پر کی جانے والی ایک ’ٹارگٹڈ سٹرائیک‘ بھی شامل ہے، جسے ’آپریشن ناردرن ایرو‘ کا نام دیا گیا تھا۔ 

حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس کا تیسرا کمانڈر علی کراکے زندہ ہے اور اے ایف پی کے ذرائع کے مطابق دارالحکومت بیروت پر حملے میں نشانہ بننے کے بعد وہ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے تھے۔

لبنان کے سرکاری میڈیا نے مشرقی لبنان میں نئے چھاپوں کی اطلاع دی، جب کہ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے اسرائیل میں پانچ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ میں فضائی حملے کے سائرن بجنے پر لوگ کوور کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔

لبنان کی وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیل کے فحائی حملوں میں 35 بچوں اور 58 خواتین سمیت 492 افراد جان سے گئے اور 1645 زخمی ہوئے ہیں۔

لبنانی وزیر صحت فراس عبیاد نے کہا کہ ’ہزاروں خاندان‘ بے گھر ہو گئے ہیں۔

مشرقی لبنان کے قدیم شہر بعلبیک کے قریب ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے آسمان پر دھواں اُڑتا ہوا دیکھا گیا۔

لعبانہن اتتاچک.jpg

23 ستمبر 2024 کو وادی بیکا میں لبنانی شہر بعلبیک پر اسرائیلی فضائی حملے کے مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

لبنان میں زاوتار کے جنوبی گاؤں سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ لبنانی خاتون خانہ وفا اسماعیل نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’ہم سوتے ہیں اور بمباری کے لیے جاگتے ہیں… یہی ہماری زندگی بن گئی ہے۔‘

بین الاقوامی ردعمل 

عالمی طاقتوں نے اسرائیل اور حزب اللہ پر جنگ بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فرانس اور مصر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کا مطالبہ کیا جبکہ عراق نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عرب ریاستوں کے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ہرزی حلوی نے کہا کہ حملوں سے حزب اللہ کے جنگی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جو دو دہائیوں سے تعمیر کیا جا رہا تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر کو آپریشن میں ’ایک اہم چوٹی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’حزب اللہ کے لیے اپنے قیام کے بعد سے یہ سب سے مشکل ہفتہ ہے — نتائج خود بولتے ہیں۔

’ہفتے کے آغاز میں کی جانے والی سرگرمیوں کے نتیجے میں پورے یونٹس کو جنگ سے باہر نکال لیا گیا تھا جس میں متعدد دہشت گرد زخمی ہوئے تھے۔‘

وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شمال میں ’سکیورٹی بیلنس‘ کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

اس سے قبل لبنانی وزارت صحت نے پیر کو کہا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں لبنان کے جنوبی علاقوں سمیت دیگر شہروں میں 356 افراد جان سے گئے جبکہ ایک 1200 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لبنانی وزیر صحت نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک مرنے والوں میں 21 بچے اور 31 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 1246 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق ایک لبنانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پیر لبنان کے لیے 15 سالہ خانہ جنگی کے بعد کا سب سے زیادہ اموات والا دن ہے۔‘

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ پیر کی صبح حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی کارروائی کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہی ہے۔

)

انہوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر ہم اس جنگی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں جو حزب اللہ گذشتہ 20 سالوں سے تعمیر کر رہی ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔ ہم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

اس حوالے سے انہوں نے کوئی تفصیل نہیں دی لیکن کہا کہ وہ جلد ہی اس کی وضاحت کریں گے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہزاروں لبنانیوں نے جنوب سے طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے اور جنوبی ساحلی شہر سیدون سے بیروت کی طرف جانے والی سڑک گاڑیوں کے رش کی وجہ سے جام ہو گئی۔ یہ 2006 کی لڑائی کے بعد سب سے بڑی نقل مکانی ہے.

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار