تازہ ترین خبریں

اتحادِ عالمی نے اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی حکومتوں کے فرض کے بارے میں فتویٰ کے اجراء کے لیے متعدد علماء کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا.

اس مضمون کا اشتراک کریں:

اتحادِ عالمی نے اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی حکومتوں کے فرض کے بارے میں فتویٰ کے اجراء کے لیے متعدد علماء کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا. 

 

آج شام سات بجے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے صدر دفتر میں یونین کے سیکرٹری جنرل شیخ علی قرہ داغی کی سربراہی میں یونین کے متعدد علماء کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔  ۔

 غزہ کی پٹی کے خلاف موجودہ صہیونی جارحیت کی روشنی میں انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کی اجتہاد اور فتویٰ کمیٹی نے ایک اہم فتویٰ جاری کیا ہے جس میں اس وحشیانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی حکومتوں کے فرض کے بارے میں ایک مضبوط پیغام دیا گیا ہے۔ دوحہ، قطر میں اتحاد عالمی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں غزہ کو درپیش المیہ، نسل کشی اور وسیع تباہی سے بچانے کے لیے  مسلم حکومتوں، حکمرانوں اور مسلم افواج کی فوری مداخلت اور مکمل تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

 

 

جاری کردہ فتویٰ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ فلسطین کی ہر ممکن مذہبی، سیاسی، قانونی اور اخلاقی مدد اور دیگر ہر قسم کی مدد کرنا شرعا فرض ہے اور  اسلامی حکومتوں اور سرکاری افواج پر لازم ہے کہ اس صیہونی جارحیت کو روکنے کے لیے تیز رفتار اور موثر اقدام کریں ۔ فتویٰ میں تمام عرب اور اسلامی ممالک بالخصوص فلسطین کے چار سرحدی ممالک (مصر، اردن، شام اور لبنان) کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی توازن حاصل کیا جا سکے اور اس بدترین ظلم کو روکا جا سکے۔

 

فتویٰ کے اختتام پر، فلسطین میں جہاد اور امداد کی دعوت کو ایک شرعی فریضہ اور ایک اسلامی اور انسانی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی ، جس میں جارحیت کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے رہنے اور ظلم کو روکنے یا اس کا جواب نہ دینے کو حرام اور شرعی نقطہ نظر سے کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ۔ یہ فتویٰ موجودہ مشکل ترین المیہ میں فلسطینی کاز کی حمایت اور فلسطینی عوام کی مدد کے لیے انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

 

 

 

فتویٰ کا متن (10/31/2023 (04/16/1445 ہجری) کو جاری کیا گیا تھا اور دنیا بھر کے مذہبی اسکالرز اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔

 

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار