1 محرم 1445 ہجری کو منعقد سکالرز، ممبران پارلیمنٹ اور دانشوروں کے عالمی مشاورتی کانفرنس کا جاری کردہ اعلامیہ.
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمدلله رب العالمين، والعاقبة للمتقين، والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، وعلى إخوانه من الأنبياء والمرسلين، وآله وصحبه ومن تبع هداه إلى يوم الدين.
اما بعد!
اسلامی دنیا میں اہل فکر و نظر گذشتہ کچھ ایام سے مسلسل تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کررہے ہیں. کہ کچھ شدت پسندوں مجرموں کے ذریعے اسلام کی بنیادی چیزوں اور اسلام کے مقدسات کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ، کبھی ڈنمارک اور فرانس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز کارٹون اور توہین آمیز فلمیں چلائی جاتی ہیں، اور کبھی قرآن پاک کو جلایا، پھاڑ ا اور پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔
دوسری طرف ہمارے پہلے سے مقبوضہ قبلہ اول پر قابضین نے بے حرمتی اور زمان و مکان کی تقسیم اور اس میں اپنی مذہبی رسومات کی انجام دہی میں اضافہ کیا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے فلسطین کی بعض مساجد میں قرآن کو بھی پھاڑ دیا اور اس کے بہت
بہت سے لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا۔
مندرجہ بالا کے علاوہ، اسلام اور مسلمانوں کے شعائر پر بھیانک حملے ہوتے ہیں، جیسے؛ امہات المؤمنین ، ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے
ان سنگین واقعات اور خطرات کے پیش نظر جو کہ اسلام کے مقدسات کو درپیش ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے پیش نظر، ان کے جذبات کی پرواہ کیے بغیر، جب کہ د مسلمان پوری دنیا میں دو ارب کی تعداد میں ہیں ، انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز نے بڑی تعداد میں انجمنوں، علمی اداروں ، اسلامی تحریکوں، پارلیمنٹرینوں، ارباب اختیار کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ اس سلسلے میں عالمی سطح پر یہ اجلاس منعقد کیا ۔یہ اجلاس استنبول، میں "اوماد " کے ہیڈ کوارٹر میں – 1 محرم 1445 7/22/2023 M کو منعقد ہوا اس اجلاس نے اتفاق رائے سے یہ اعلامیہ جاری کیا.
اول: اسلام میں آزادی بھی قابلِ احترام ہے اگرچہ اس کا تعلق عقیدہ اور دین کے معاملے سے ہو. بھی اس کی تائید شرعی نصوص سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ..(…پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے…) <الکہف: 29>۔
لیکن وہ آزادی جو عقلی اور قانونی طور پر قابل قبول ہے وہ ہے جو دوسروں کی آزادی اور وقار کو متاثر نہ کرے۔اگر کسی ایک شخص کی عزت قابل احترام ہے تو تقریباً دو ارب مسلمانوں کی اخلاقی شخصیت کا وقار کیسے مقدس اور قابل احترام نہیں؟
دوم: اس عظیم امت یعنی امت اجابت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ محض مذمت اور ملامت پر مطمئن ہو جائے، بلکہ اسے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری اور استطاعت کے مطابق حکمت کی تدبر کے مطابق، اور درج ذیل موثر ذرائع اختیار کرے:
1- اسلام کے جامع تعارف اس کی سچائی، رحمت، عدل، اور اس سے پوری انسانیت کے لیے بھلائی اور خیر ہونے کی تشہیر کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا۔
یہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں چاہے وہ ارباب حکومت ہوں یا ادارے اور تنظیمیں ہوں.. یہ کام تمام بین الاقوامی اور مقامی زبانوں میں ہونا چاہیے. اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ * إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ): (پھر آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کا اعلان کردیں اور مشرکوں سے کنارہ کشی اختیار کریں ، بیشک تمھارے لیے ہم ہی کافی ہیں مذاق کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے ) <الحجر: 94/95>۔
قرآن کے علمی ، سماجی، معاشی اور انسانی معجزات اور سیرتِ نبوی کی خوبصورتی کو عصری اسلوب میں ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے بھر پور قوت کے ساتھ پیش کرنا پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے.
اس اجلاس کے حاضرین کا خیال ہے کہ یہ فریضہ مطلوبہ طریقے سے پورا نہیں ہوا ہے، اس لیے قوم کو تمام دستیاب ذرائع سے اسلام کی سچائیاں (قرآن و سنت) کو امت دعوت تک پہنچانا چاہیے، اور اس کے لیے ترجمے کے کردار کو فعال کرنے، اسلام کو متعارف کرانے کے لیے مختلف زبانوں میں مضبوط مراکز قائم کرنے، اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ موثر رابطے کے ساتھ ساتھ علمی مجلسوں کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے ۔ اسی طرح مختلف عالمی یونیورسٹیوں میں ایک ایسا چیر قائم کیا جائے جو اسلام کے تعارف کے لیے خاص ہو. اور اس کے لیے شوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کیا جائے. جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ…) (اے رسولؐ، جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے ، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا ..) <المائدۃ: 67>۔
بلاشبہ اس میدان میں اہل علم، وکلاء اور دانشوروں کا کردار زیادہ ضروری ہے اور اس کی ضرورت بھی زیادہ ہے۔
2- اسلامی تعاون کی تنظیم کو ہمارے ان مقدسات کی توہین کے بارے میں ایک فوری کانفرنس بلانے چاہیے ، تاکہ ایک ایسے اسٹریٹجک منصوبے تک پہنچ سکے جس میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے موثر آلات اور ذرائع اختیار کیے جائیں ۔
3- اسلامی حکومتوں سے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہیں.
ا.. اسلامی حکومتوں، یا اسلامی تعاون کی تنظیم، اور ان مغربی ممالک کی حکومتوں کے درمیان ایک میٹنگ کا فوری انعقاد جو مغربی ممالک ہمارے مقدسات کی توہین کی اجازت دیتی ہے، تاکہ ان سے پیدا ہونے والے خطرات اور اثرات کو بیان کیا جا سکے۔
ب. اقوام متحدہ کو ایک مناسب فیصلہ لینے کی دعوت دیں، اس بات کے پیش نظر کہ مسلمانوں کے مقدسات کی یہ توہین بین الاقوامی امن اور تعمیری تعاون کے لیے خطرہ ہے، تاکہ مذاہب کی توہین کو روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے تک پہنچ سکے۔
ج/ اسلامی حکومتوں اور مسلم عوام کی طرف سے سفارتی اور اقتصادی۔منصفانہ بائیکاٹ کے لیے عملی اقدامات کرنا: اگر توہین کے واقعات دوبارہ پیش آئیں
یہاں ہم الازہر الشریف کی طرف سے ان مغربی ممالک کے معاشی بائیکاٹ کے مطالبے کی تعریف کرتے ہیں۔
اسلام کے انصاف میں سے ایک یہ ہے کہ جو توہین کی حمایت نہیں کرتا وہ بائیکاٹ میں شامل نہیں ہے۔
د.. اسلام، اس کی رحمت اور عدل، قرآن کریم کی عظمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت سیرت کو متعارف کرانے کے لیے بین الاقوامی، اقتصادی اور سیاسی طور پر جامع حکمت عملی تیارکرنا، اور اسے اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کے لیے ایک اسٹریٹجک ہدف کے طور پر لینا۔
ہ.. مسلم ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سفارت خانوں اور متعلقہ حکام کے سامنے پرامن، مہذب مظاہروں کی اجازت دیں۔
سوم: الف- اوقاف کی وزارتوں اور ان سے ملحقہ اداروں سے تمام جائز ذرائع اور وسائل سے مقدسات کی حفاظت کے لیے اپنا فرض ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں
چہارم : تمام مسلمان پارلیمنٹیرینز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی پارلیمانوں تک رسائی کے لیے موثر اقدام کریں اور آزاد اور انصاف پسند پارلیمنٹیرینز کو ایک چارٹر، یا ایسا قانون بنانے کے لیے تیار کریں جو مذاہب کی توہین سے روکے، اور یہ ظاہر کریں کہ مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت بڑی ناانصافی اور شدید نقصان کا سبب ہے، اس کا حل یہ ہے کہ کہ تمام مذاہب کے مقدسات کی توہین پر عالمی سطح پر پابندی کے لیے قانون سازی کی جائے.
پنجم: فقہا، قانونی اسکالرز اور وکلاء سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی انصاف کا سہارا لے کر اپنے مقدسات کی خدمت اور حفاظت کے لیے تندہی سے کام کریں۔ بین الاقوامی اور علاقائی عدالتیں مقدسات کی توہین کو جرم قرار دیں اور مجرموں پر سزائیں دیں۔
ششم : یورپ اور دیگر جگہوں پر موجود مسلم اقلیت کو اپنے جائز حقوق کے دفاع کے لیے تندہی، منظم اور پروگرام کے ساتھ کام کرنے اور پرامن مظاہروں کے ذریعے، عدلیہ کا سہارا لے کر، اور اس میں ریاست کے تمام اجزاء، خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں، پارلیمانوں اور وہاں کے فعال اداروں، ان کے ذاتی مسائل اور تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اپنے اسلامی مقدسات کی حفاظت کرنے کی دعوت پیش کریں
ہفتم: اقوام متحدہ سے مطالبہ کریں کہ وہ مذاہب کی توہین کو روکنے کے لیے ایک عالمی چارٹر جاری کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلائے، اور توہین مقدسات کو جرم قرار دے، کیونکہ یہ ان کے کے لیے اخلاقی نقصان، بین الاقوامی امن و سلامتی کی خلاف ورزی کا سبب، اور دہشت گردی کی طرف ایک محرک ہے (حقیقت میں یہ دہشت گردی ہے)، یہ چیز نفرت اور نسل پرستی کو جنم دیتی ہے۔
ہشتم : اپنی اسلامی قوم سے مسجد اقصیٰ (ہمارا قبلہ اول) اور القدس الشریف کی حفاظت اور تمام مقبوضہ زمینوں کو تمام جائز طریقوں سے آزاد کرانے کی دعوت دیتے ہیں جس میں قابضین کے خلاف مزاحمت کا حق بھی شامل ہے، جس کی ضمانت الہٰی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے دی گئی ہے، اور یہ کہ یہ شرعی اور قانونی طور پر ایک ملی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ فلسطینی عوام کے حق میں اور اسلام مقدسات کے خلاف قابض اور آباد کاروں کی شنیع حرکات کے خلاف مزاحمت کریں.
نہم: یہ عالمی کانفرنس امہات المؤمنین ، آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے خاندان اور صحابہ کرام کے خلاف لگائے گئے الزامات اور غیر ذمہ دارانہ الفاظ کی شدید مذمت کرتا ہے، کیونکہ یہ اسلام کی حقیقت سے متصادم ہیں اور اس کے قانونی نصوص سے متصادم ہیں، جس کے ذریعے ملت کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ملک کو مزید تباہی اور بربادی کی طرف لے جایا جا رہا ہے.
دہم : یہ عالمی کانفرنس اپنی پوری اسلامی امت کو باہمی حقوق کی ادائیگی ، نظم و ضبط کی آزادی اور عوام کی مرضی کے احترام کی بنیاد پر ملت کے تمام اجزا – قائدین، عوام، تحریکوں اور جماعتوں کے درمیان تعمیری تعاون، یکجہتی ، حقیقی اتحاد اور جامع مفاہمت کی دعوت دیتا ہے۔
بلاشبہ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے اور ہماری ناکامی ہمارے جھگڑوں اور تفرقوں میں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم ہار جاؤ گے اور تمہاری طاقت ختم ہو جائے گی۔ اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) <الانفال: 46>۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جب تم باہم دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا، اس کے فضل سے تم بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اس لیے اس نے تمہیں اس سے بچا لیا، اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں واضح کرتا ہے:
آخر میں، ان فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونین کے نمائندوں اور شرکاء پر مشتمل ایک فالو اپ کمیٹی بنائی جائے۔
اس کانفرنس کے نتیجے میں کئی سفارشات سامنے آئیں، جن میں سے سب سے اہم یہ ہیں:
1- مقدسات کے تحفظ کے طریقوں اور ذرائع پر ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد، اس سے پہلے عملی پروگراموں اور منصوبوں تک پہنچنے کے لیے مؤثر ورکشاپس کا انعقاد۔
2- اسلام کو متعارف کرانے اور نفرت اور اسلامو فوبیا کو روکنے کے لیے انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کی نگرانی میں ایک بین الاقوامی ادارے کا قیام۔
3- مستقل مشاورت اور رابطہ کاری کے لیے وفاق اور دیگر اداروں کے درمیان بہت سے اجلاسوں کا انعقاد۔
آخر میں، یہ عالمی کانفرنس اس اجلاس کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ترکی کے صدر، حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہے.
عالمی اجلاس ان تمام اسلامی ممالک اور اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے ہمارے مقدسات کے بارے میں باوقار موقف اپنایا، اور ہر اس شخص کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے اس اجلاس میں شرکت کرکے، یا زوم کے ذریعے شرکت کرکے، یا اس کی تیاری کرکے ہمارا تعاون کیا ، نیز ان تمام میڈیا اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے لیے مستقل وقت نکالا اور پوری میٹنگ یا اس کے اختتام کو رپورٹ کیا۔
اسی طرح ہم "عماد" انجمن اور اس کے وقف کی ہماری میزبانی کے لئے اپنا مخلصانہ تعاون پیش کرنے پر ہم شکریہ ادا کر تے ہیں،
وآخر دعوانا أن الحمدالله رب العالمين، وصلى الله وسلم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
عالمی فورم برائے تحفظ مقدسات
استنبول، یکم محرم 1445ھ، 7/23/2023 عیسوی