ترکی نے بین الاقوامی برادری کے لیے شام
ساتھ دو سرحدی گزرگاہیں کھولنے کی پیشکش
تاکہ زلزلے سے متاثرہ شمالی علاقوں انسانی امداد بھیجی جا سکے
ترکی نے بین الاقوامی برادری کے لیے شام کے ساتھ دو سرحدی گزرگاہیں کھولنے کی پیشکش کی ہے تاکہ زلزلے سے متاثرہ شمالی علاقوں میں انسانی امداد بھیجی جا سکے۔
ترک وزیر خارجہ نے اپنے لیبیا ئی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا، ہم نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو بتایا کہ وہ ہمارے زیر کنٹرول دو دروازوں سے انسانی امداد بھیج سکتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم انسانی امداد کے لیے یہ دروازے کھول سکتے ہیں۔ پیر کو دارالحکومت انقرہ میں وہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم سوالات کے جواب دے رہے تھے. گزشتہ ہفتے کے طاقتور جڑواں زلزلوں کے بعد شام سے ترکی میں پناہ گزینوں کی آمد ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر" بیلجیم یا دیگر یورپی ممالک شامی پناه گزینوں کو اپنے ملکوں میں لے جانا چاہتے ہیں تو ترکی اپنی فضائی حدود کھول سکتا ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 6 فروری کو جنوب مشرقی ترکی میں آنے والے زلزلے سے کم از کم 31,643 افراد ہلاک ہو گئے۔ 7.7 اور 7.6 شدت کے زلزلوں کا مرکز
کہرامنماراس صوبے میں تھا، . جس نے 10 صوبوں میں 13 ملين سے زیادہ افراد کو متاثر کیا، جن میں ہاتائے، گازیانٹیپ ادیامان، ملاتیا، ادانا ،دیاربکر ،کلیس عثمانیہ اور سانلیورفا شامل ہیں۔ پڑوسی ملک شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کر گئی
ہے جب کہ 5,200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔