تازہ ترین خبریں

کابل: مسجد میں خودکش حملہ، 10 افراد ہلاک

اس مضمون کا اشتراک کریں:

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافاتی علاقے خیر خنہ میں بدھ کی شام ایک مسجد میں خود کش حملے کے نتیجے میں ایک اہم مذہبی رہنما سمیت کم از کم 10 افراد چل بسے جبکہ 30 کے قریب زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکا اس وقت ہوا، جب مسجد میں نماز ادا کی جارہی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدیقیہ مسجد میں ہونے والے حملے کے زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

اے پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے 10 افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اٹلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایمرجنسی‘، جو کابل کے ایک ہسپتال کی منتظم ہے، نے 27 زخمیوں کی ہسپتال آمد کی تصدیق کی ہے، جنہیں یا تو شیل لگے یا ان کے جسموں پر جلنے کے نشانات تھے۔ ایمرجنسی نے بتایا کہ زخمیوں میں پانچ بچے بھی تھے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کئی افراد کے مرنے اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم رات گئے تک انہوں نے کوئی حتمی تعداد نہیں بتائی۔

اے پی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’خود کش حملے کا نشانہ خیر خنہ کے ایک رہائشی ملا امیر محمد کابلی تھے۔‘

عینی شاہد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات دیں کیوں کہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

گذشتہ چند ہفتوں سے افغانستان میں مساجد، مدارس اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 11 اگست کو ایک خود کش بمبار نے مذہبی رہنما رحیم اللہ حقانی کے مدرسے کو نشانہ بنایا تھا، جس میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ مارے گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

جب سے طالبان نے ملک کا کنٹرول حاصل کیا ہے افغانستان میں پر تشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے، تاہم داعش نے اقلیتوں کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے اور یہ تنظیم اب تک افغانستان میں سکھ، شیعہ اور صوفی برادریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے داعش کو شکست دے دی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ طالبان کے لیے بنیادی خطرہ ہے۔

طالبان نے اپنے شیعہ کمانڈر کو قتل کر دیا

خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان نے اپنے ایک ساتھی کو قتل کیا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اقلیتی شیعہ ہزارہ برادری سے طالبان کے پہلے کمانڈر تھے۔

روئٹرز کے مطابق حکام نے شیعہ ہزارہ برادری کے سابق طالبان رہنما کے قتل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت کے باغی تھے۔

وزارت دفاع کے مطابق مولوی مہدی کو ایران سے متصل سرحدی علاقے میں طالبان نے اس وقت قتل کیا جب وہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

کچھ عرصہ قبل مولوی مہدی کو کمانڈر تعینات کیا گیا تھا تو اسے اقلیتوں کے حوالے سے طالبان کی ذہنیت تبدیل ہونے کا اشارہ سمجھا جا رہا تھا۔

طالبان کے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد مہدی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے اور طالبان نے حکومت بنانے کے بعد مہدی کو وسطی صوبے میں خفیہ ایجنسی کا سربراہ تعینات کیا تھا۔

وزارت دفاع نے بدھ کو جاری بیان میں مہدی کو شمالی صوبے سرے پل کے ’باغیوں کا رہنما‘ قرار دیا ہے۔

طالبان ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ مہدی طالبان سے الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے بغاوت کی تھی۔

وزارت دفاع کے مطابق انہیں افغان صوبے ہرات میں قتل کیا گیا ہے، جو ایران کی سرحد سے متصل ہے۔

روئٹرز کو مہدی کے کسی ذرائع تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار