تازہ ترین خبریں

من اھم اخبار الہند حول مسجد شمسی یتعرض للہدم و عمرہ ٨٠٠ عام

اس مضمون کا اشتراک کریں:

بدایوں کی ۸۰۰؍ سالہ قدیم او ر تاریخی جامع مسجد پر اب شرپسندوں کی نظر ہے

 بنارس کی گیان واپی مسجد اورمتھراکی تاریخی شاہی عیدگاہ کے بعد اب سب کی نظریں بدایوں کی جامع مسجد شمسی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ ۱۵؍ ستمبر کو اس معاملے کی اگلی شنوائی ہوگی۔ گزشتہ۳ ؍ ستمبر کو مقامی عدالت میں بدایوں کی اس تاریخی جامع مسجد کو شیو مندر بتاتے ہوئے بھگوا طاقتوں نے مقدمہ دائر کیا تھا اورسول کورٹ نے اس عرضی کومنظور بھی کرلیا تھا۔ مقدمہ میں بھگوان شیو کو فریق اول بنایا گیا ہےاور یہاں پوجا کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کی بھی اجازت مانگی ہے ۔ اس کے بعد جامع مسجد کمیٹی نے اپنا اعتراض داخل کرتے ہوئے عدالت سے اپیل کی ہے کہ اس عرضی کو خارج کردیا جائےکیونکہ یہ مقدمہ سماعت کے قابل ہی نہیں ہے۔مسجد کمیٹی کے رکن اور مقدمہ کے وکیل اسرار احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ ہم نے بر وقت اسلئے اعتراض داخل کیا کہ مقدمہ درج ہی نہ ہو کیوں کہ ہمیں خدشہ تھا کہ عدالت ہندو فریق کی عرضی پر کوئی فیصلہ نہ سنا دے۔  حالانکہ عدالت نے اگلی سماعت کیلئے ۱۵؍ ستمبر کی تاریخ مقرر کردی۔ایڈوکیٹ صدیقی کا کہنا ہے کہ ۱۵؍ تاریخ کو کسی فیصلے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ان کے علاوہ انور عالم ایڈوکیٹ اور محمد جمیل ایڈوکیٹ مسجد کمیٹی کی جانب سے وکیل  ہیں۔
 حال ہی میں گیان واپی مسجد کے تعلق سے آنے والے فیصلے کے بعد اب سب کی نگاہیں بدایوں پر لگی ہیں کیوں کہ گیان واپی مسجد کی طرح جامع مسجد شمسی میں بھی پوجا پاٹھ کی اجازت مانگی گئی ہے۔ ساتھ ہی مقامی سطح پر لوگوں میں تشویش بھی ہے کہ کہیں شر پسند عناصربدایوں کے پر امن ماحول کو پراگندہ کرنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ حالانکہ ایڈوکیٹ اسرار احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ ہندو فریق کے دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں ہےاور نہ ہی ان کا دعویٰ اتنا مضبوط ہے کہ مقدمہ کو آگے چلایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں پوری امید ہے کہ جلد ہی مقدمہ خارج ہو جائے گا اور شر پسنداپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیکڑوں برس سے مسلمان یہاں نماز ادا کرتے آرہے ہیں اور اس کی مالکانہ حیثیت بھی ہمارے پاس ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ گیان واپی مسجد کے بارے میں بھی اسی طرح کادعویٰ کرکے مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور عدالت نے حال ہی میںپوجا کی اجازت والی عرضی کو قابل سماعت تسلیم کرلیا ہے، اس پر ان کا کہنا ہے کہ گیان واپی مسجد اور بدایوں کی جامع مسجد شمسی کے معاملے میں بہت فرق ہے۔ گیان واپی مسجد کو ’کاشی وشو ناتھ ایکٹ ۱۹۸۳ء‘ کی بنیاد پر مندر احاطہ میں مانا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ’پلیس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء‘ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ایڈوکیٹ صدیقی کا کہنا ہے کہ بدایوں کے معاملے میں ۱۹۹۱ء کاعباتگاہوں کے تحفظ سے متعلق ایکٹ نافذ ہوتا ہےلہٰذا اس بنیاد پر بھی ہمیں امید ہے کہ ہندو فریق کا مقدمہ خارج ہو جائے گا۔واضح ہو کہ جامع مسجد شمسی تقریباً ۸۰۰؍ برس سے آباد ہے اور یہاں جمعہ ،عیدین، تراویح اور پنج وقتہ نمازیں ہوتی رہی  ہیں۔ 
  غور طلب ہے کہ پچھلے دنوں جامع مسجد شمسی پر ہندوؤں کی دعویداری کرتے ہوئےا کھل بھارتیہ ہندو پریشد نے سول جج سینئر ڈویژن (اول)میں ایک عرضی دائر کی ہے۔تنظیم کے ریاستی کنوینر مکیش پٹیل اور ایڈوکیٹ اروندر پرمار، گیان پرکاش، ڈاکٹر انوراگ شرما اور امیش چندر شرما کے ذریعہ دائر اس پٹیشن میں بھگوان شیو کو فریق اول بنایا گیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد شیو مندر کو مسمار کرکے تعمیر کی گئی تھی، اسلئے اس میں ہندؤوں کو آرتی اور پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار