شیخ یوسف القرضاوی رحمہ اللہ کی تمام تصنیفات کا مکمل مجموعہ شایع ہو گیا ہے جو 105 جلدوں پہ مشتمل ہے۔ اس میں عقیده، تفسیر و علوم القرآن علوم حدیث و سنت، فقہ، اصول فقہ، تاریخ و شخصیات شعر و ادب خطبات و محاضرات اور فتاوی وغیرہ سے متعلق شیخ کی تمام تحریریں یک جا کر دی گئی ہیں۔
بلاشبہ شیخ یوسف القرضاوی اس عہد کی بڑی قد آور شخصیت تھی ، آپ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی پر علمی و تحقیقی شہ پارے تحریر کیے ۔ ان کی علمی تراث یکجا موسوعه ( Encyclopedia ) کی شکل میں طبع ہو گئی ہے۔
جس کی جمع و تدوین کا عمل شیخ کی عرصہ حیات میں ہی شروع ہوگیا تھا ، اک دراز مدت تک تدوین نو ، ترتیب و اندراج کے پراسس سے گزر کر چند ہفتے قبل پریس میں پہنچی تھی ، لیکن منظور خدا نہ ہوا کہ شیخ اپنے اس کارنامے کو بہ چشم سر دیکھ سکتے ، یوں آپ 26 ستمبر 2022 کو رخصت ہوگئے۔
آپ کا یہ علمی شاہکار 75 ہزار صفحات پر پھیلا ہوا ہے ، جو 105 جلدوں پر مشتمل ہوگا۔ جس کو متنوع ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔
المحور الأول: التعريف العام بالإسلام.
المحور الثاني العقيدة.
المحور الثالث: الفقه وأصوله المحور
المحور الرابع الفتاوى
المحور الخامس: القرآن وعلومه وتفسيره. المحور السادس السنة النبوية وعلومها.
السابع: فقه الأمة ودعوتها وصحوتها وحركتها الإسلامية.
المحور الثامن: التاريخ والشخصيات الإسلامية. المحور التاسع الشعر والأدب والحوار. المحور العاشر: نحو وحدة فكرية للعاملين للإسلام. المحور الحادي عشر: خطب الجمعة.
المحور الثاني عشر : المحاضرات.
المحور الثالث عشر رسائل ترشيد الصحوة.
الحمدللہ یہ عظیم کاوش مکتبہ الدار الشامیہ سے چھپ کر
دست یاب ہوگئی ہے ۔ اس قدر وسیع تصنیفی خدمات کے بعد شیخ بلاشبہ تاریخ اسلامی کی عظیم شخصیات امام طبری، ابن عساکر ، ابن حجر ، ابن ملقن اور ابن تیمیہ کی طرح ہوگئے ہیں ، جنہوں نے اس قدر زیادہ علمی ورثہ امت کے لیے چھوڑا ہے۔