انٹر نیشنل یونین فار مسلم اسکالرز : قائد مجاہد اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایک نیا صہیونی جرم ہے جو غاصبانہ قبضے کی بربریت کی عکاسی کرتا ہے اور ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا متقاضی ہے۔
[وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ] (آل عمران: 169)
اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، (آل عمران: 169)
ایسے قلوب کے ساتھ جو خدا کے فیصلے اور تقدیر اور قضا وقدر پر راضی ہے ،جو ملت اسلامیہ کے حالات پر غم و اندوہ سے لبریز اور صہیونی مجرموں کے خلاف شدید غصے کے سے بھرپور ہے ، ہم ملت اسلامیہ اور عرب قوم اور دنیا کے معزز لوگوں کو مجاہد رہنما اسماعیل ھنیہ اور ان کے محافظ کی شہادت۔
غم انگیز خبر سنارہے ہیں.
جو مجرم صہیونی غاصب ریاست اسرائیل کے غدار اور بزدلانہ آپریشن میں شہید کردییے گئے.
غداری اور خیانت کا ہاتھ مزاحمت اور استقامت کی علامت شیخ ھنیہ کے قتل کے لیے بڑھایا، ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی زندگی اپنی قوم اور وطن کے حقوق کے دفاع میں گزار دی، جس نے نا انصافی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور نہ ہی جبر کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ شہید اسماعیل ہانیہ بہادر اور دانشمندانہ قیادت کا نمونہ، باطل کے مقابلے میں حق کے لیے آواز اور استقامت اور چیلنج کی علامت تھے۔
ان مشکل لمحات میں، یونین اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت اور گہرے غم غصہ کا اظہار کرتی ہے، یہ ایسا جرم ہے جسے ایک گھناؤنا جرم اور تمام بین الاقوامی کنونشنز اور انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ یہ صریح جارحیت قابض ریاست کا اصل چہرہ اور اس کی مجرمانہ پالیسیوں کو عیاں کرتی ہے جو قوم کے رہنماؤں اور علامتوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
ہم عرب ممالک کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر کارروائی کریں اور سفاک دشمن کو فوجی جواب دینے، اس کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے اور اقتصادی بائیکاٹ سے خبردار کرنے کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کریں، اور مجرموں کو بین الاقوامی عدالتوں کے کٹہرے میں لایا جائے، قابض ریاست ان بزدلانہ جرائم کے لیے جوابدہ ہے جو وہ فلسطین کے رہنماؤں اور عوام کے خلاف کر رہی ہے۔
ان سنگین چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور جارحین کے خلاف انصاف اور انتقام کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے عرب اور اسلامی موقف کا اتحاد، پھر انسانی ہمدردی اور مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔
ہم پوری دنیا کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس گھناؤنے جرم کی مذمت کریں اور قابض ریاست کو دہشت گرد ریاست سمجھیں۔ یہ بزدلانہ رویہ قابض ریاست اسرائیل کی بربریت اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری کو ان جرائم کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے اور مجرموں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے۔
ان غدارانہ اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قابض ریاست امن نہیں چاہتی، بلکہ جنگ اور ناانصافی پر جینا چاہتی ہے، فلسطینی عوام کو بھوکا مارنا چاہتی ہے، اور غیر منصفانہ جنگ کو طول دینا چاہتی ہے۔ قابض ریاست کی طرف سے جبر اور جارحیت کی پالیسی کا مقصد امن و سلامتی کو غیر مستحکم کرنا اور طاقت کے ذریعے تسلط حاصل کرنا ہے۔
ہم سفاک قابض ریاست کو ایک سخت پیغام دیتے ہیں کہ ثابت قدم فلسطینی عوام اور بہادر مزاحمت کی علامتوں کے خلاف آپ کے گھناؤنے جرائم اور غدارانہ قتل عام فلسطینی عوام کے استقامت، عزم اور اپنے قائدین کے خون کا بدلہ لینے کے جذبے کو بڑھاتے ہیں۔ وہ شہید جو خدا کے نام پر اور سرزمین اور عزت کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کا جام نوش کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ شہید قائد اسماعیل ہنیہ پر رحم فرمائے اور وہ انبیاء، صادقین، شہداء اور صالحین کی معیت عطافرمائے. انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
دوحہ، 25 محرم 1446ھ
: 31 جولائی
شیخ ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی
صدر
ڈاکٹر علی محمد صلابی؛ جنرل سیکرٹری