تازہ ترین خبریں

شیخ الحدیث حضرت مولانا انور بدخشانی کی رحلت

اس مضمون کا اشتراک کریں:

شیخ الحدیث حضرت مولانا انور بدخشانی کی رحلت  

پاکستان کے ایک بڑے عالم حضرت مولانا انور بدخاشانی رح کا گذشتہ دنوں انتقال ہوگیا… رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ. 

آپ نے پاکستان کے قدیم درسگاہوں میں بہت محنت سے دین کا علم حاصل کیا اس دور میں صوبہ سرحد کے دور دراز علاقوں سوات، مارتونگ اور تیلوس علم کی بڑی درسگاہیں شمار ہوتی تھیں جہاں قدیم طرز پر صرف نحو منطق فلسفہ اور دیگر فنون پڑھائے جاتے تھے ، استاد محترم نے ان درسگاہوں میں کئ سال تک تمام فنون کا علم حاصل کیا، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رح سے تفسیر پڑھی اور آخر میں محدث عصر علامہ محمد یوسف بنوری رح کے سامنے زانو تلمذ طے کر کے حدیث کا علم حاصل کیا اور حضرت بنوری رح کے درسگاہ سے فراغت حاصل کی۔ 

فراغت کے بعد اس جوہر نایاب پر سب سے پہلی نظر شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رح کی پڑی، 1973 وہ اس ہیرے کو جامعہ فاروقیہ لے ائے جہاں سے انہوں نے اپنی تدریس کاآغاز فرمایا، انہوں ہمیں قطبی پڑھائ جس میں میرے ساتھ حضرت مولانا محمد عادل خان شہید رح اور برطانیہ کے بزرگ عالم دین قاری طیب عباسی صاحب بھی شریک درس تھے، قطبی کا سبق پڑھانے کے بعد حضرت پوچھتے کہ سبق کون سنائے گا ؟ جس پر میں سبق سناتا تو آپ خوش ہو کر ارشاد فرماتے کہ ایسا لگتا ہے تم نے قطبی دس بار پڑھی ہے، اسی سال حضرت استاد محترم نے مفتی کفایت اللہ رح کی مشہور کتاب تعلیم السلام کا فارسی میں ترجمہ کیا اور فرمایا کہ یہ میں نے افغانستان کے مسلمانوں کے لیے ترجمہ کیا ہے تا کہ وہ بھی اس کتاب سے استفادہ  کر سکیں۔ 

جامعہ فاروقیہ میں ایک سال تدریس کے بعد اگلے سال حضرت بنوری رح نے اس ہونہار اور قابل شاگرد کو اپنے یہاں بلا لیا اور ہم بھی ان کے ساتھ جامعۃ العلوم السلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن چلے گئے، حضرت استاد صاحب سے خامسہ میں ہم نے تفسیر قرآن سورہ سبا سے آخر تک پڑھی، استاد محترم دن بھر جامعہ میں پڑھاتے لیکن طلبہ کے ساتھ کی آپ کی شفقت کہ انتہا تھی کہ خارج اوقات میں بھی فنون کی مشکل کتابیں پڑھاتے تھے، ہم تین طلبہ نے فارغ وقت میں حضرت استاد صاحب سے بلاغت واضحہ اور ھدیہ سعیدیہ پڑھیں، آپ کے پاس صرف فجر کی نماز سے پہلے کاوقت فارغ تھا چنانچہ پورے سال آپ نے ہمیں فجر کی نماز سے قبل یہ کتابیں پڑھائیں۔ 

آپ کے عزیزمولانا نعیم صاحب فرماتے ہیں کہ مجھ پر استاد محترم کا بڑا اعتماد تھا جب میں فارغ ہونے کے بعد پٹھان کالونی میں امام ہوا تو آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ میرے تین چچا کے بیٹے آئے ہوئے ہیں جو شرح جامی پڑھنا چاہتے ہیں اور جامعہ کے نصاب میں شرح جامی نہیں پڑھائ جاتی، ہمارے یہاں افغانستان میں اگر کسی نے شرح جامی نہ پڑھی ہو تو اسے عالم نہیں سمجھتے، اس لیے میری خواہش یہ ہے کہ آپ اور مولانا نور الحق صاحب انہیں شرح جامی اور درجہ رابعہ کی کتب پڑھا دیں، چنانچہ ہم دو افراد نے استاد محترم کے حکم پر ان طلبہ کو اپنی مسجد میں اس سال شرح جامی سمیت درجہ رابعہ کی تمام کتب پڑھائیں، یہ ہمارے استاد محترم کا ہم پر اعتماد تھا، آپ نہ صرف خود تدریس اور تعلیم کے شعبہ سے وابستہ تھے بلکہ ہم جیسے شاگردوں کو بھی تدریس کی لائن میں لگا کر ہم پر احسان فرمایا۔ 

 اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ان کی اولاد، ان کے شاگرد اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار