“اسرائیل امریکی حمایت اور عالمی خاموشی کے ساتھ نسل کشی کر رہا ہے”:امیر جماعت اسلامی
پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اسرائیلی قبضے پر فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی حمایت اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی غزہ اور مغربی کنارے میں ہونے والے جرائم کو تقویت دے رہی ہے۔
حافظ نعیم نے صحافتی گفتگو میں کہا کہ غزہ میں ہزاروں شہداء اور لاکھوں بے گھر افراد واضح خلاف ورزیوں کا شکار ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی حمایت کے تحت “کھلی دہشت گردی” جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک جائز قانونی تحریک ہے جو فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے۔
انہوں نے
مزید کہا: “پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ہم مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں اور ظالموں کی مخالفت کرتے ہیں۔ حماس ہمارے لیے ایک فخر ہے، اور پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے سرکاری طور پر تسلیم کرے اور اسلام آباد میں ان کا دفتر کھولے۔”
اسلامی اقدام اور اسرائیل کا عالمی بائیکاٹ
حافظ نعیم نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی مسئلے کے حق میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے اور سفارتی طور پر اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے فلسطینی بچوں کی تعلیم کے انتظام اور ان کی انسانی مشکلات کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بین الاقوامی معیاروں کی دوہری پالیسی
امیر جماعت نے امریکی دوہری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہی امریکہ جو حماس کو دہشت گرد قرار دیتا ہے، خود ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے جرائم کا ذمہ دار ہے۔
فلسطین: ایک عقیدے کا مسئلہ
انہوں نے کہا: “فلسطین محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عقیدے کا مسئلہ اور امت مسلمہ کی امانت ہے۔ ہم ان کے ساتھ ہیں جو مسجد اقصیٰ کا تحفظ کرتے ہیں۔”