عاشقوں کے قافلے دیارِ محبوب کی طرف رواں دواں ہیں، جوں جوں ایامِ وصل قریب آرہے ہیں‘ اضطراب بڑھ رہا ہے اور دھڑکنیں تیز ہورہی ہیں۔ دنیا کے ہرخطے، رنگ ونسل اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اہلِ ایمان‘ نداءِ ابراہیمی پر لبیک کہتے ہوئے مرکزِ وحدت کی طرف والہانہ دوڑ رہے ہیں، کچھ پیدل ہیں تو کچھ لاغر سواریوں پر، کوئی براستہ سمندر پہنچنے کی سعی میں ہے تو کوئی بذریعہ ہوائی جہاز، کسی نے پیٹ کاٹ کر آنہ آنہ جمع کرکے رختِ سفر کا انتظام کیا ہے تو کسی نے خون پسینہ بہاکر مطلوب تک پہنچنے کا تہیہ کر رکھا ہے، دل بیت اللہ اور شعائر اللہ کی تعظیم سے لب ریز ہیں تو زبانوں پر ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کی صدائیں ہیں۔ معمارِ کعبہ‘ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر تاحال اس گھر اور اس سے متعلقہ اشیاء اور کرداروں میں عشق کی خوشبو ایسی بسی ہے کہ دیگر عناصر پر غالب محسوس ہوتی ہے۔
آزر کے گھر توحید کے علم بردار کو پیدا کرکے حق تعالیٰ شانہ نے اس کے دل میں اپنا ایسا عشق بسایا کہ زندگی کے جس موڑ پر جو حکم دیا آنکھ بند کر کے اس پر سرِتسلیم خم کیا اور دل کی توجہ لمحے بھر کے لیے بھی کسی دوسری جانب نہ گئی، بے آب و گیاہ صحرا میں لختِ جگر اور رفیقِ حیات کو تنہا چھوڑنا ہو یا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنا، ترکِ وطن اور طویل اسفار ہوں یا سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان مادی اسباب کے بغیر اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان گھر کی تعمیر، بادشاہِ وقت سے مناظرے ہوں یا وقت کے طاغوت کی بھڑکائی ہوئی محیر العقول آگ میں جانا، عقلِ انسانی اس کے پیمانۂ عشق کا اندازہ لگانے سے عاجز ہے:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
اس عاشقِ صادق سے بیت اللہ کی تعمیر کرواکر حکم دیا گیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کرے، یہ حکم بجائے خود عشق و عقل کا امتحان تھا، موقع پر نہ تو انسانوں کا مجمع تھا نہ ذرائعِ مواصلات، لیکن جب حکمِ اَذاں ہوا تو اللہ کے خلیل نے فوراً تعمیل کی، اس پاکیزہ وپُرخلوص پکار کی تاثیر کچھ ایسی تھی کہ تاحال عشاق اس کی طرف وارفتہ دوڑ رہے ہیں، اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
الغرض بیت اللہ کے گوشے گوشے اور اِرد گرد کے علاقے میں اس پاکیزہ گھرانے کے جذبۂ عشق کی یادگاریں رکھ دی گئی ہیں، مقامِ ابراہیم ہو یا صفا و مروہ کے درمیان سعی، جمرات کی رمی ہو یا اس کے قریب مذبحِ اسماعیل، عرفات کا میدان ہو یا منیٰ کی وادی، سب اس عاشق گھرانے کے جذبۂ عشق کی ایسی یادگاریں ہیں جنہیں دیکھنا بھی عبادت قرار دے دیا گیا۔
حج کی عبادت‘ عشقِ الٰہی کی اِن یادگاروں سے جڑی ایک عاشقانہ عبادت ہے، دینِ اسلام دینِ فطرت ہے، اس نے فطرت کے ہر تقاضے کو اعتدال کے ساتھ پورا کرنے کا سامان بہم پہنچایا ہے، انسانی سرشت میں عشق و محبت کا جذبہ بھی رکھاگیا ہے، اگر اسے خالقِ انسانیت کی مرضیات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے فانی دنیا میں لگادیا جائے تو یہ ناجائز عشق ٹھہرتا ہے، اور یہی جذبہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے حکم کی اتباع میں ہو تو عشقِ حقیقی اور باعثِ ثواب ٹھہرتا ہے، ارشادِ خداوندی ہے:
’’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ‘‘ (البقرۃ: ۱۶۵)
ترجمہ: ’’اور جو مؤمن ہیں ان کو (صرف) اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے۔ ‘‘(بیان القرآن: ۱/۱۱۵، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
بیت اللہ سے محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہی تقاضا ہے، کامل مسلمان وہ ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ اور دین کی یادگاروں کی تعظیم اور محبت ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ‘‘ (الحج:۳۲)
ترجمہ: ’’اور سن لو کہ جو شخص دینِ خداوندی کی ان (مذکورہ) یادگاروں کا پورا لحاظ رکھے گا، تو ان کا یہ لحاظ رکھنا خدا تعالیٰ سے دل کے ساتھ ڈرنے سے ہوتا ہے۔‘‘ (بیان القرآن: ۲/۵۲۰، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
اصل مطلوب تو اللہ تعالیٰ کی محبت ہے، یہ درو دیوار اور حجر و مقام مطلوبِ اصلی نہیں، لیکن ہم انسان فانی، ناقص اور محدود ہیں، اپنے جذبات کے اظہار میں محسوسات کے محتاج ہیں، انسان کو کسی سے عشق ہو تو وہ چاہتا ہے اسے دیکھے، اس کے پاس جائے، اس سے گفتگو کرے، اس کے درو دیوار کو چومے، اس کے گھر کے چکر لگائے، کوچہ و بازار گھومے، اور وصل نصیب ہوجائے تو اس سے لپٹ کر روئے، اس کے قدم اور ہاتھ چومے:
أمرّ علی الدیارِ دیارِ لیلی
أقبّل ذا الجدار و ذا الجدار
و ما حبّ الدیار شغفن قلبي
و لٰکن حبّ من سکن الدیار
انسان کو جب اللہ تعالیٰ سے محبت کا حکم دیا گیا تو انسانی فطرت کا تقاضا تھا کہ اسے عشقِ خداوندی کی کچھ یادگاریں بھی دی جاتیں، جن کی طرف سفر کرکے، ان کے چکر لگاکر، وہاں کے درو دیوار کو چوم کر، ان سے لپٹ کر اپنے جذبۂ عشق کی تسکین کرتا، اور ان مقاصد کے حصول کے دوران سچے عاشق کی طرح، شاہانہ طمطراق اور رئیسانہ وضع کو ترک کرتا، سفر کی مشقتیں برداشت کرکے پراگندہ ہیئت محبوب کے در پر جاپہنچتا کہ اس کی قربانیاں دیکھ کر محبوب کو رحم آجائے، اللہ تعالیٰ نے ان کیفیات کے حصول اور محبت کے جذبات کی تسکین کے لیے حج کی عاشقانہ عبادت اور بیت اللہ اور اس کے اِردگرد عشقِ الٰہی کی یہ یادگاریں مقرر فرمادیں۔
دُور اُفتادہ علاقوں سے بیت اللہ تک سفر، فاخرانہ لباس چھوڑ کر دو چادریں زیبِ تن کرنا، خوشبو کے استعمال سے گریز، میلاکچیلا بدن، پراگندہ حالت، بال ناخن نہ کاٹنا، سخت سردی و گرمی کے باوجود سر نہ ڈھانپنا، اپنی سپردگی کا اظہار بآوازِ بلند تلبیہ کی صداؤں سے کرنا، دیارِ محبوب میں دیوانہ وار چکر لگانا، کبھی دوڑنا، کبھی سربسجود ہوکر محبوب کو منانے کی کوشش کرنا، کبھی منیٰ کی وادی میں پڑاؤ ڈالنا تو کبھی سخت گرمی میں عرفہ کے میدان میں محبوب کی معرفت کی راہیں تلاش کرنا، مزدلفہ میں سخت سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزارنا اور محبوب کے دشمن کو کنکریاں مارنا یہ سب عاشقانہ ادائی ہے.