تازہ ترین خبریں

استنبول.. “انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز” نے قرآن کو جلانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا

اس مضمون کا اشتراک کریں:

جمعہ کے روز انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز نے استنبول میں قرآن کی حالیہ بے حرمتی اور سویڈن میں اس کے نسخے کو نذرآتش کیے جانے کے واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے اور مغربی کنارے ۔کے شمالی علاقے میں واقع جنین کیمپ میں رہائش پذیر فلسطینیوں کی حمایت میں یکجہتی کے اظہار کے لیے مظاہرہ کیا ۔ 

مسجد الفتح کے چوک میں ہونے والے اس اجتماع کے دوران یونین کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر علی قرہ دغی نے ایک اہم تقریر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ دونوں مسائل پر علماء کرام نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے  "کہ لفظی جمع خرچ کا وقت گذرچکا ہے. اور اب مذمت کے دائرے سے نکل کر عملی اقدامات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ "

اس بیان میں سب سے پہلے  "اسلامی تعاون تنظیم اور اسلامی حکومتوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ مذمت کے دائرے سے نکل کر عملی اقدامات کی طرف بڑھیں. اور سویڈن  کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے لیے پیش قدمی کریں اور ہر ایسی حکومت کا بائیکاٹ کریں جو اسلام کے مقدسات پر حملہ کرنے کا محرک بنتی ہو. 

اپنی تقریر میں ، شیخ قرہ داغی نے "سویڈن کے اقتصادی بائیکاٹ" کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ان دو اقدامات کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے، اور یہ سخت غصہ میں مبتلا ناراض مسلم عوام کے احساسات کے موافق ہو گا جو مقدسات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہتا ہے "

انہوں نے اسلامی تحریکوں، اراکین پارلیمنٹ اور سیاست دانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے  ان سے مطالبہ کیا کہ وہ "قانونی طریقے سے کام کریں، حرکت کریں، اور عملی اقدامات کریں ، اور مذاہب بالخصوص اسلامی مذہب کے مقدسات کی توہین کو جرم قرار دینے کے لیے معاملہ کو عدالتوں میں لے جائیں۔ "

تیسرے پیغام کا تعلق پوری ملت اسلامیہ سے تھا "قرآن کریم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اقصیٰ میں مقدسات کے تحفظ اور دفاع کے لیے عملی اقدامات کریں اور اس سلسلے میں مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کو لازم سمجھیں اور فلسطینی عوام کے خون کا دفاع  کی ضرورت کی طرف متوجہ کیا. فلسطینی عوام اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق قانونی حقوق ۔اپنے جائز حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔" "

چوتھا پیغام قوم کے علماء اور مبلغین کے لیے تھا، جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ "اپنے فرائض ادا کریں اور قوم کو اس وقت تک آگے بڑھاتے رہیں جب تک کہ وہ اپنے فرائض کو پورا نہ کرے۔ "

القره داغی نے سویڈن، یورپ اور دیگر ممالک میں مسلم اقلیت سے بھی خطاب کیا کہ "پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے اور یورپی یونین کی عدالت سمیت موجودہ قوانین اور عدالتوں سے استفادہ کرنے سے متعلق اپنا فرض ادا کریں، خاموش نہ رہیں اور ظالموں کے سامنے ہتھیار بھی نہ ڈالیں ۔ ، کیونکہ یہ ان کے بنیادی حقوق میں سے ہیں جن کی ضمانت ممالک کے آئین میں دی گئی ہے۔ "

اور آخری پیغام اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کو دیا گیا کہ "اقوام متحدہ کا قیام بین الاقوامی امن اور انصاف کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا، اور مسلمانوں کے لیے ان کے مقدسات کی توہین سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں، مقدسات کی توہین کا سلسلہ نہیں رکا تو یہ دہشت گردی کو جنم دے گا اور نفرت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ "

انہوں نے مزید کہا، "اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے اپنے پروگرام میں شامل کریں اور مذاہب کی توہین کو جرم قرار دینے والا قانون جاری کریں۔ "

اس سلسلے میں  فیڈریشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ایک رکن اور پیغمبر اسلام کی حمایت کے لیے بین الاقوامی تنظیم کے سیکرٹری جنرل شیخ محمد الصغیر،نے کہا، "ملت اسلامیہ کو مستعد اور چوکس رہنا چاہیے۔ کیونکہ اسلام کے اہم ترین مقدسات یعنی قرآن کریم،رسول اکرم اور مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنایا گیا  ہے۔ "

الصغیر نے "قرآن کو جلانے اور جینین کے پر حملہ کے بارے میں کچھ حلقوں کے ردعمل" کی تعریف کی اور "اس کے مطابق مزید کارروائی " کرنے کی اپیل کی ۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "ترک صدر رجب طیب اردگان کا ردعمل سب سے واضح تھا، کیونکہ وہ خود سامنے آئے اور قرآن کے نسخے کو جلانے کے جرم کے بارے میں بات کی اور اس پر سزا دلوانے کا اعلان کیا۔ "

الصغیر نے "حکمرانوں اور عوام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسا مؤقف اختیار کریں جو اس جرم کے شناعت کے مطابق ہو،"  "اگر حکمران مناسب موقف اختیار نہیں کرتے ہیں تو عوام بائیکاٹ کا ہتھیار استعمال کریں ۔ "

28 جون کو سویڈن میں مقیم عراقی شہری سلوان مومیکا (37 سال) نے سٹاک ہوم کی مرکزی مسجد میں قرآن کا ایک نسخہ پھاڑ کر اسے آگ لگا دی، جب پولیس نے اسے عدالتی فیصلہ کے مطابق ایسا کرنے کی اجازت دی تھی۔  جس پر  عالمی پیمانے پر مذمت اور غم و غُصہ کی لہر دوڑ گئی  .

فلسطینی اسکالرز ایسوسی ایشن کے سربراہ شیخ نواف تکروری نے اپنی تقریر میں کہا: "سویڈن میں قرآن کو جلانا، نابلس کے دیہات میں قرآن کو پھاڑنا، شمالی مغربی کنارہ)،جنین کیمپ پر دھاوا بولنا۔  اور پیغمبر کے تقدس پر حملہ یہ سب ملک کے وقار اور مقدسات پر حملے ہیں جس کا تقاضا ہے کہ ملت اسلامیہ  اجتماعی طور پر آگے بڑھے اور تیار اور مستعد رہے ۔

تکروری نے جنین کیمپ میں "گھروں اور مساجد پر وحشیانہ صہیونی حملے، اس کیمپ میں موجود خاندانوں کو بے گھر کرنے، مجاہدین کو ہلاک کرنے، اور ان میں سے زیادہ تر عام شہریوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کی ۔

انھوں نے زور دیا کہ "دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا، اور مزاحمت باقی رہے گی ، اور قابض طاقت کو شکست خوردہ ہوکر باہر ہونا پڑے  اور جنین کے لوگوں نے اس مہم کا شاندار انداز میں ڈٹ کر مقابلہ کیا،  ملت اسلامیہ پر ان کا حق ہے۔ کہ وہ ان کی حمایت کریں اور ان کا ہر ممکن تعاون کریں ، 
اسرائیلی فوج نے پیر اور منگل کی درمیانی شب جنین شہر اور اس کے پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جس کے دوران کئی فضائی حملے کیے گئے

متعلقہ خبریں۔

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

برازیلین فٹبالر آغوشِ اسلام میں

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و فکری نمایاں منصوبوں پر تبادلۂ خیال

دوحہ: وزیرِ اوقاف کی رئیسِ اتحاد سے ملاقات، علمی و
اشتہار