استنبول ایک عظیم فقہی
کورس کی میزبانی کر رہا ہے، جو عصرِ حاضر کے مسائل اور مقاصدِ شریعت پر غور و خوض کے
لیے منعقد ہوا ہے، جس میں عراق اور بیرونِ عراق کے علما شریک ہیں۔
افتتاح اور مجمع کا پیغام
یہ فقہی علمی کورس ہفتہ، 16 اگست
2025ء کو استنبول میں شروع ہوا۔ اس کا اہتمام “المجمع الفقهي العراقي” نے
“جمعیۃ علماء المسلمین بترکیا” (عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی ترکی
شاخ) کے تعاون سے کیا ہے۔ یہ پروگرام 16 سے 18 اگست تک جاری رہے گا، جس میں عراق اور
بیرونِ عراق سے ممتاز علما، فقہا اور محققین شریک ہیں۔
تقریب کا آغاز قاری شیخ فاروق السامرائی
کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد پہلا اجلاس ڈاکٹر فاضل الربیعی (مقررِ کورس)
کی صدارت میں منعقد ہوا۔
ڈاکٹر طہ الزیدی نے مجمع کی جانب سے
کلمات پیش کیے. اور شیخ احمد حسن الطہ (مجمع کے سربراہ) کی طرف سے سلام اور شکریہ پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ مجمع کا مقصد فتاویٰ کو شریعت کے مقاصد اور فقہِ واقع کے مطابق رہنمائی
فراہم کرنا ہے۔ اس کے لیے اجتماعی اجتہاد، ماہرین سے مشاورت، بین الاقوامی فقہی مجالس
سے تعلق اور مفتیوں کی تیاری پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
پہلے دن کی علمی محاضرات
پہلے دن دو علمی محاضرے ہوئے:
پہلا محاضرہ ڈاکٹر عبد الوہاب آکینجی
نے پیش کیا: “تزکیہ کا کردار اور دعوتِ الی اللہ میں اس کی اہمیت”۔ انہوں
نے وضاحت کی کہ تزکیہ داعی کی شخصیت سازی اور معاشرتی اصلاح میں روحانی بنیاد فراہم
کرتا ہے، اور قرآن، سنت اور تاریخ سے شواہد پیش کیے۔
دوسرا محاضرہ عالمی اتحاد برائے مسلم
اسکالرز کے صدر محترم شیخ پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی نے پیش کیا: جس کا
عنوان تھا “ڈیجیٹل کرنسیاں اور ای-کامرس”۔ انہوں نے جدید معاشی چیلنجز اور
ان سے پیدا ہونے والے فقہی مسائل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مقاصدی اجتماعی اجتہاد ان
نئے معاملات کو منظم کرنے کے لیے ناگزیر ہے، تاکہ امت کے مفادات محفوظ ہوں اور مفاسد
سے بچاؤ ہو۔
کورس کے مقاصد
شریعت کے مقاصد کے مطابق معاصر فتاویٰ
کی رہنمائی۔
اجتماعی اجتہاد اور ماہرین کے ساتھ
ہم آہنگی کو فروغ دینا۔
مفتیوں کی نئی نسل کو خصوصی تربیت
دینا۔
عالمی علمی تجربات سے استفادہ اور
فقہی تبادلۂ خیال۔
اگلے دنوں کے محاضرات
اتوار 17 اگست: ڈاکٹر ونیس المبروک
کا محاضرہ بعنوان “مقاربات فی صناعة الفتویٰ”۔
پیر 18 اگست: ڈاکٹر سالم الشیخی کا
محاضرہ بعنوان “سیاسی اجتہادِ مقاصدی کی مہارتیں – ایک عملی مطالعہ”۔
وسیع شرکت اور علمی
فعالیت
اجلاسوں میں علما، اساتذہ، طلبہ اور
محققین کے علاوہ علمی و فکری اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ بحث و مباحثے علمی
فعالیت اور عصرِ حاضر کے مسائل کے ساتھ شعوری طور پر جڑے رہنے کے جذبے سے بھرپور تھے۔
یہ کورس “المجمع الفقهي العراقي”
کی ان کوششوں کا تسلسل ہے جو معاصر فکری، معاشی اور سماجی چیلنجز کے ساتھ ہم آہنگ فقہ
پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہ پروگرام “جمعیۃ علماء المسلمین” کے تعاون
سے منعقد ہوا، اور “صناعة المفتي وتأهيل المفتين” (مفتی سازی اور تربیت)
کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس میں عراق کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے تیس محققین شریک
ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور بین الاقوامی علمی مجالس کے ساتھ ہم
قدم رہ سکیں۔
اہم موضوعات
کورس کے علمی پروگرام میں درج ذیل
معاصر موضوعات شامل ہیں:
1. کرپٹو کرنسی اور اجتماعی فنڈنگ۔
2. ڈیجیٹل حصص اور صکوک۔
3. مصنوعی ذہانت کے ذریعے مالیاتی معاہدات کی
تنظیم۔
4. فتویٰ سازی کی معاصر جہات۔
5. سیاسی اجتہادِ مقاصدی کی مہارتیں۔
(ماخذ: الاتحاد)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).