فلسطین کے حق میں جنتر
منتر پر بڑا مظاہرہ، مولانا حکیم الدین قاسمی کا خطاب *نئی دہلی، 22 اگست
2025*
آج نئی دہلی کے جنتر منتر پر فرینڈز
آف فلسطین کے زیر اہتمام ایک اہم مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے
شرکت کی۔ میزبان اجلاس جماعت اسلامی ہند کے
ذمہ داران کے علاوہ سمیت سبھی جماعتوں کے ذمہ
داران اس موقع پر شریک ہوئے.
اس
موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا
حکیم الدین قاسمی نے خطاب کیا۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے نمائندگی کرنے والوں میں
پروفیسر نعمان شاہ جہاپوری (نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی)، جمعیۃ علماء ہند کے سینئر
آرگنائزر مولانا غیور احمد قاسمی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، اور مولانا عظیم اللہ قاسمی
بھی شریک تھے
اپنے خطاب میں مولانا حکیم الدین قاسمی
نے کہا کہ:
> “ہم آج یہاں صرف فلسطین کی سرزمین پر
جاری ایک بحران پر گفتگو کے لیے جمع نہیں ہوئے، بلکہ انسانیت کے مستقبل کے بارے میں
فیصلہ کرنے کے لیے کھڑے ہیں۔ غزہ کے ملبوں سے اٹھنے والی چیخیں صرف فلسطینی عوام کی
آواز نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مظلومانہ پکار ہیں۔ معصوم بچے بھوک اور پیاس سے دم
توڑ رہے ہیں، مائیں اپنے لختِ جگر کو کھو رہی ہیں، اور ہسپتال و اسکول کھنڈر میں تبدیل
ہوچکے ہیں۔ یہ کسی عام جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ کھلی نسل کشی ہے۔
> فلسطین کی یہ جدوجہد اپنی بقا اور آزادی
کے لیے ہے، اور ہم ہندوستانی عوام اس درد کو بخوبی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ہم نے بھی
استعماری طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت ایک طرف
فلسطین کے حق میں عالمی سطح پر ووٹ دیتی ہے، مگر دوسری طرف جیساکہ ایک۔سو سے زائد سابق
نوکر شاہوں نے خط لکھ کر سوال اٹھایا ہے ہماری حکومت اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرکے اس
نسل کشی میں شریک بن رہی ہے۔ یہ دوہرا رویہ نہ صرف ملک کی تاریخی روایات کے خلاف ہے
بلکہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ کو بھی مجروح کررہا ہے۔
> نومبر 2024ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت
نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یوو گالنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور
نسل کشی کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے۔ جب عالمی انصاف اسرائیلی قیادت کو ملزم ٹھہرا
رہا ہے تو بھارت کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کس اخلاقی معیار پر پوری اترتی ہے؟
> فلسطین کی آزادی صرف فلسطینی عوام کا مسئلہ
نہیں بلکہ یہ انصاف، انسانیت اور عالمی امن کا تقاضا ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو تاریخ
کل ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ اس لیے دنیا کی آزاد قوموں، عالمی اداروں اور انصاف
پسند قیادتوں کو چاہیے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی اخلاقی
و قانونی ذمہ داری ادا کریں۔”
مولانا نے آخر میں دعا کی کہ اللہ
تعالیٰ فلسطین کے مظلوم عوام کی مدد فرمائے اور ہمیں ظلم کے خلاف حق کے ساتھ کھڑے ہونے
کی توفیق عطا کرے۔