اتحاد عالمی کے جنرل سیکرٹری علی محی الدین قرہ داغی نے "القدس" بین الاقوامی ہفتہ کے موقع پر ایک بین الاقوامی (الیکٹرانک) کانفرنس میں شرکت کی۔
علی قرہ داغی نے مختلف قسم کے درپیش بحرانوں کا سامنا کرنے کے لیے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا.
انھوں نے مزید کہا کہ ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے نے ایک مضبوط اشارہ دیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ اس قوم میں ہر کوئی ایک جسم کی مانند ہے۔ انہوں نے ملت اسلامیہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کریں اور فلسطینی کاز کی حمایت کریں، مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی مقدسات کو لاحق خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس مشکل وقت میں یکجہتی، اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کریں۔
واضح رہے کہ یہ پروگرام "انٹرنیشنل یروشلم ویک" کی سرگرمیوں کے تحت شروع کیا گیا، ان غیر معمولی حالات کی روشنی میں جن سے ترکیہ اور شام تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں گزر رہے ہیں۔
اس تقریب کو الجزائر کے معلی ایسوسی ایشن کے صدر شیخ نورالدین لعموری نے پیش کیا۔ جب کہ دکتور نواف تکروری نے خطاب کیا جنہوں نے زلزلے سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے "القدس ہفتہ" کے پروگراموں پر کام جاری رکھنے اور زلزلہ زدگان کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دیگر مقررین نے بھی اس پروگرام سے خطاب کیا، جن میں عالمی اتحاد برائے تعاون یروشلم و فلسطین کے سربراہ ۔ ڈاکٹر ہمام سعید، محقق اور مشیر امور مقبوضہ بیت المقدس، شیخ مخلص برزق، پروفیسر ڈاکٹر وصفی عاشور، رکن رابطہ اہل سنت اور محترمہ عائشہ ام عدنان، نے بھی خطاب کیا۔ عائشہ ام عدنان نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار دی سپورٹ آف نیشن کی جانب سے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ اسلامی امت فلسطین کی حمایت کے لیے متحدہ کوششیں کرے، اس کے علاوہ نوجوان نسل کو ایسے تعلیم و تربیت دی جائے جس میں فلسطین کی آزادی کا درس ہو ۔
اس پروگرام سے اریٹیرین علماء کی مجلس شوریٰ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر جلال محمد صالح اور مراکش کی اتھارٹی برائے تعاون ملت اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر عبدالصمد فتحی، اور ملائیشین جمعیت علماء کے رکن ڈی۔ احمد یوسف نے بھی خطاب کیا
مجلس کے اختتام پر اس نے "سال کی بہترین شخصیت" کے طور پر عظیم اسکالر علامہ یوسف قرضاوی کو منتخب کیا گیا تھا۔انھیں ایک علامتی خراج تحسین پیش کیا گیا.